برلن؛ اسلامی آرٹ اور ایرانی خاتون کا ھنر

IQNA

برلن؛ اسلامی آرٹ اور ایرانی خاتون کا ھنر

10:03 - May 30, 2021
خبر کا کوڈ: 3509427
تہران(ایکنا) «ایران ھوم» کے تعاون سے برلن میں «اسلامی آرٹ کی وسعت» کے عنوان سے یوٹیوب پر پروگرام منعقد ہوا۔

ایرانی خاتون آرٹسٹ فاطمہ یاوری نے ایرانی ثقافتی مرکز کے تعاون سے منعقدہ میں فن پیش کیا، پروگرام سے خطاب میں انکا کہنا تھا: اسلامی آرٹ تاریخ کی سنہری دور کا اہم حصہ شمار ہوتا ہے جسمیں معماری، خطاطی، پینٹنگ اور پتھروں پر نقش و نگار وغیرہ شامل ہے۔

 

انکا کہنا تھا کہ اسلامی آرٹ نے دیگر شعبوں سے اثر لیا اور خطاطی و موسیقی سے لیکر مختلف شعبوں تک اس نتے نقوش چھوڑے۔

 

انکا کہنا تھا کہ آسلامی فن معماری بھی آرٹ کا خوبصورت شعبہ ہے بالخصوص مساجد کے میناروں اور دیواروں پر اسکا بہترین ثبوت دیکھے جاسکتے ہیں اور اسلامی تمدن کی تاریخ کا اہم حصہ شمار ہوتا ہے۔

 

ادارہ ثقافت وتعلقات اسلامی ایران کے مطابق جرمنی میں مقیم ایرانی آرٹسٹ کا کہنا تھا کہ مساجد کے گنبد پر نقش و نگار اسلامی فن کا ایک اور شاہکار ہے اور قدیم مساجد کے گنبد پر اسکے نمونے موجود ہیں، قبہ الصخرہ پر سال ۶۹۱ پر اسلامی فن معماری اور تاج محل کے گنبد پر ایرانی آرٹ کو دیکھا جاسکتا ہے۔

 

خطاطی ، اسلامی آرٹ

انکا کہنا تھا: خطاطی اسلامی آرٹ کا اہم ترین شعبہ ہے جو اسلامی سرزمین پر پھیلا ہوا ہے اور مسلمانوں میں مشترکہ آرٹ شمار ہوتا ہے۔

 

ایرانی آرٹسٹ خاتو ن کا کہنا تھا کہ خطاطی ہمیشہ سے مسلمانوں میں خاص اہمیت کی حامل رہی ہے کیونکہ دیگر شبعوں کے علاوہ قرآن مجید کی آیات کے حوالے سے اسکا استعمال ہوتا ہے جو مختلف مقامات اور پتھروں و دیواروں پر قدیم سے اب بھی موجود ہیں۔

 

برلن میں مقیم ایرانی خاتون فن کار کا کہنا تھا کہ سرامیک یا ٹایلز اور دیگر پتھروں پر خطاطی کے نمونے اسلامی و ایرانی فن کا اہم حصہ ہے۔

 

فاطمہ یاوری اصفھان کے رہنے والی خاتون آرٹسٹ ہے جو خطاط اور مینیاچر میں ماہر استاد شمار کی جاتی ہے اور اس وقت فرینکفرٹ میں مقیم ہے ، وہ بچوں کو تخلیقی آرٹ پڑھانے کے حوالے سے بیس سالہ تجربہ رکھتی ہے اور اب تک انکی کاوشوں سے بیس نمایش منعقد ہوچکی ہے۔/

3974286

نظرات بینندگان
captcha