اسپین کے مسلمان اور اسلامی میراث کو زندہ کرنے کی کاوش

IQNA

اسپین کے مسلمان اور اسلامی میراث کو زندہ کرنے کی کاوش

10:06 - May 30, 2021
خبر کا کوڈ: 3509428
تہران(ایکنا) اسلامی مرکز گراناڈا کے مطابق مسلمانوں کی کوشش ہے کہ اندلس میں اسلامی دور کے درخشاں میراث کو زندہ کیا جاسکے۔

اسپین کے شہر «گراناڈا» یا (غرناطه) کے مسلمان کوشش کررہے ہیں کہ اسلامی میراث اور تمدن کو زندہ کیا جاسکے۔

 

گراناڈا جنوبی اسپین کے شہر ہے اور سال ۱۴۹۲ تک یہ شہر مسلمانوں کے قبضے میں رہا ہے اور مسلمانوں کا خوبصورت دالخلافہ شمار ہوتا تھا۔

 

جامع مسجد گراناڈا کے ثقافتی مرکز اور مسجد کے ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ اسلام یہاں طولانی مدت تک رہا ہے اور انکی کوشش ہے کہ اس دور کے آثار اور اثرات کو نمایآں کیا جائے۔

 

عبدالقادر شالیر کا کہنا تھا کہ اسلامی دور کے آثار کو مٹانے کی بہت کوششیں ہوئی ہیں تاہم یہاں کے مسلمان اب کوشش کررہے  ہیں کہ اسلامی سنہری دور کے میراث کو زندہ کیا جاسکے۔

 

مسجد جامع گراناڈا؛ اسلامی آرٹ کی شاہکار

مسجد جامع گراناڈا اسلامی دور کی یادگارہ شاہکار شمار کی جاتی ہے اور یہ مسجد قصر الحمراء سے متصل ہے جس کو دیکھ کر اسلامی دور کی یاد تازہ ہوجاتی ہے

 

اسلامی مرکز گراناڈا کے سربراہ کا کہنا ہے کہ دنیا بھر سے مسلم سیاح اس کو دیکھ کر اسلامی تمدن کی یاد کرکے عظمت رفتہ کی بات کرتے ہیں۔

 

مسلم آثار کو مٹانا ممکن نہیں

انکا کہنا تھا کہ سال ۱۴۹۲ کو سقوط اندلس کے بعد مسلم کتابوں اور آثار کو جلایا گیا جس کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی اور قرآن و مساجد تک کو نذر آتش کیا گیا۔

 

شالیر کا کہنا تھا کہ اندلس اور اسپین میں اسلام (۷۸۱ سال) زندہ رہا اور ہماری کوشش ہے کہ اس دور کے آثار کو زندہ کرسکے۔

 

نسل نو کو اسلام سے روشناس کرانے کا چیلنج

 

شالیر کا کہنا تھاکہ اسپین میں اکثر مسلمان مہاجر ہیں جو روزگار کی تلاش میں یہاں آئے ہیں اور انکو نسل نو اسلام سے روشناس کرانے کا چیلنج درپیش ہے۔

 

یہاں پر مسلمانوں کا اس معاشرے میں ضم ہونے اور اسلام کو زندہ رکھنے کا بحران بڑا مسئلہ ہے جبکہ کوشش کی جاتی ہے کہ اسلامی آثار اور نشانیوں کو بالکل مٹایا جائے۔

 

ثقافتی مرکز کے ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ اسپین کے حکام کا خیال ہے کہ مسلمانوں کو معاشرے کا حصہ بنانے کے لیے اسلام میں تبدیلیاں لازم ہے تاہم اہم نکتہ ہے کہ اکثر اسلامی مسائل میں تبدیلی کی گنجایش موجود نہیں۔

 شالیر کا کہنا تھا کہ امیدہے کہ جلد یا بدیر اسلام معاشرے میں قابل ہضم ہوگا جیسے برطانیہ، فرانس اور جرمنی میں عام ہوچکا ہے۔

 

مسلمانوں نے ۷۱۱ کو اندلس کو فتح کیا اور ۷۸۱ سال تک یہاں رہا، اندلس میں اسلامی خدمات کی گرانقدر خدمات رہی ہے جس کا غیر اسلامی مورخین بھی معترف ہیں۔/

3974251

نظرات بینندگان
captcha