سعودی عرب؛ اذان کی آواز محدود کرنے پر رد عمل

IQNA

سعودی عرب؛ اذان کی آواز محدود کرنے پر رد عمل

9:14 - June 01, 2021
خبر کا کوڈ: 3509444
تہران(ایکنا) سعودی عرب میں آذان کی آواز نیچی کرنے کے حوالے سے اعتراضات کے بعد سعودی وزیر مذہبی امور نے اس فیصلے کو درست اور عوامی سہولت کا زریعہ قرار دیا ہے۔

سعودی عرب کے وزیر مذہبی امور عبدالطیف الشیخ نے آذان کی آواز کم کرنے کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ اعتراض کرتے تھے کہ آّواز سے انکو تکلیف ہوتی ہے۔

گذشتہ ہفتے کو سرکاری حکم میں کہا گیا کہ مساجد سے آزان کی آواز کم کرکے ایک تہاِئی کیا جائے اور صرف آذان تک اسپیکر کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔

روئٹرز کے مطابق اس خبر پر بعض مساجد نے عمل شروع کیا ہے تاہم سب نہیں۔

سعودی مذہبی امور کے وزیر نے ٹی وی پروگرام الاخباریہ سے گفتگو میں کہا کہ بعض گھرانوں اور بوڑھے افراد نے بلند آواز کے خلاف شکایت کی تھی۔

انکا کہنا تھا کہ متعدد چینلوں سے بھی نماز اور اذان نشر کی جاتی ہے اور ضروری نہیں کہ لوگ مساجد ہی سے اذان کی آواز کا انتظار کریں۔

سوشل میڈیا پر اس فیصلے کی حمایت اور مخالفت کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے۔

بعض کا کہنا ہے کہ آذان کی آواز سے دلوں کو سکون ملتا ہے ایک صارف بنام محمد آل یحی کا کہنا ہے کہ جہاں تلاوت کی آواز کو مساجد سے منع کردیا گیا ہے امید ہے کہ بعض ہوٹلوں اور بازاروں سے موسیقی کی بلند آواز کا بھی نوٹس لیا جائے گا۔

الشیخ کا کہنا تھا کہ بعض دشمن چاہتےہیں کہ عوامی رائے عامہ کو سعودی بادشاہ کے مخالف بنائے اور اس طرح قومی ہم آہنگی کو خراب کرنے کے درپے ہیں۔

3974862

نظرات بینندگان
captcha