IQNA

9:16 - June 14, 2021
خبر کا کوڈ: 3509547
تہران(ایکنا مونٹین تحقیقی مرکز کے مطابق فرانس میں مسلمانوں کے خلاف نسل پرستانہ جرایم میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔

مونٹین تحقیقی مرکز کے مطابق جس کی رپورٹ روزنامہ فیگاروں میں شایع ہوا ہے اسلامو فوبیا میں روزبروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پچیس ہزار دفاتر کے افیسروں پر کیے گیے سروے میں معلوم ہوتا ہے کہ عام طور پر دفاتر میں مسلمان خواتین سے متعصبانہ رویہ رکھا جاتا ہے۔

اسلامی ویلیوز سے دوری

ایک کمپنی کے مالک اریک چالان بلوال کے مطابق بیس سال پہلے وہ سیکولر سوچ کے مالک تھے مگر اب وہ بھی اس کی حمایت کرتے ہیں کہ دفاتر میں کسی قسم کے مذہبی علامات کے استعمال کو ممنوع ہونا چاہیے۔

بلوال کا کہنا ہے کہ اس نے ایک مسلمان خاتون جو ڈرائیور ہے سے کہا ہے کہ کام میں حجاب سے پرہیز کرے اور انکے لیے نماز کے لیے آفس سے باہر مخصوص کمرہ رکھا گیا ہے۔

محقق اور رائٹر لیونل اونوره کا کہنا ہے کہ سال ۲۰۲۰،  میں اسلامی ہراسی میں بیس فیصد اضافہ ہوا ہے ۔

فرانس؛ مسلمان جو ہر روز محدود تر ہوتے جارہے ہیں۔

نماز و حجاب کے موانع

دفاتر میں دینی دستورات پر عمل میں کیا رکاوٹیں ہیں؟ کیا آفس ٹایم میں نماز کی جاسکتی ہے یا اسکارف پہن سکتے ہیں؟

ایک ورکر کا کہنا ہے کہ وہ نماز کے وقت ایک ہال میں جاکر نماز ادا کرتا ہے اور اب تک کسی کو پتہ نہیں چلا ہے، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ نماز پر پابندی کی وجہ سے انہوں نے جاب چھوڑدیا ہے۔

فرانس؛ مسلمان جو ہر روز محدود تر ہوتے جارہے ہیں۔

انکا کہنا ہے کہ اکثر لوگ عقیدے پر عمل کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں تاہم پردہ کو چھپانا تو ممکن نہیں۔

چائلڈ کیئر سنٹر  «Baby Loup» سے نکالے ایک خاتون کا کیس سال ۲۰۱۳ میں بہت مشہور ہوا جسمیں عدالت نے حجاب کی وجہ سے کام سے نکالنے کو غلط قرار دیا تھا۔

مایکل آمادو کا کہنا ہے کہ حکم کے بعد سے عقیدے پر عمل میں کچھ سہولت ملی تھی۔

سخت قوانین کا اجرا

فرانس کے ٹراسپوٹ شعبے میں سال ۲۰۱۵ میں داعش کے دہشت گردانہ حملے کے بعد اور اس میں ایک مسلمان ڈرائیور کے ملوث ہونے کے بعد مسلمان کاریگروں پر کڑی نگرانی کا سلسلہ شروع ہوا۔

 سال ۲۰۱۵ میں عقیدے پر عمل کی وجہ سے سات مسلمان ورکروں کو اداروں سے نکالا گیا جبکہ سال ۲۰۱۶ میں چھ دیگر کو اخراج کیا گیا ۔

رائٹر کے مابق فیگاروں اخبار نے جن کمپنی مالکان  سے گفتگو کی ہے وہ جانتے ہیں کہ اداروں میں مسلمانوں پر سختی کی وجہ سے مسلمان مرد و عورت سے تعصبانہ رویہ رکھا جاتا ہے وہ یہ غیرقانونی ہے۔ تاہم پھر بھی انکی ترجیح ہوتی ہے وہ عقاید پر عمل کے قانون پر سختی سے عمل درآمد کروائیں۔/

3977107

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: