امریکا کیساتھ امن کا حصہ تو بن سکتے ہیں جنگ کا نہیں، وزیراعظم کا قومی اسمبلی میں دوٹوک اعلان

IQNA

امریکا کیساتھ امن کا حصہ تو بن سکتے ہیں جنگ کا نہیں، وزیراعظم کا قومی اسمبلی میں دوٹوک اعلان

9:01 - July 01, 2021
خبر کا کوڈ: 3509698
تہران(ایکنا) ڈرون حملوں سے متعلق وزیراعظم کا کہنا تھاکہ 30 سال سے ایک دہشت گرد برطانیہ میں بیٹھا ہوا ہے توکیا برطانیہ ڈرون حملہ کرنے کی اجازت دے گا؟

وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس  سے خطاب میں اعلان کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ امن کا حصہ تو بن سکتے ہیں جنگ کا نہیں اور ہم افغانستان میں صرف امن چاہتے ہیں یہی ہمارے مفاد میں ہے۔

قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے خطاب کیا اور یہ خطاب ایک گھنٹے سے زائد جاری رہا۔

وزیراعظم نے اپوزیشن بینچز کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ جب اپوزیشن میں تھا توملک نے فیصلہ کیا کہ امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شامل ہوں، جب امریکی جنگ میں شامل ہوئے تواس وقت بھی جنگ میں شمولیت کی مخالفت کی تھی، امریکی جنگ میں شامل ہونا ہماری حماقت تھی۔

انہوں نے بتایا کہ امریکی جنگ میں ڈیڑھ سو ارب ڈالرز کا نقصان ہوا، 70 ہزار افراد شہید ہوئے، امریکی جوکہتے رہے مشرف حکومت کرتی رہی، مشرف نے کتاب میں لکھا پیسے لے کرلوگوں کوامریکیوں کے حوالے کیا۔

ڈرون حملوں سے متعلق وزیراعظم کا کہنا تھاکہ 30 سال سے ایک دہشت گرد برطانیہ میں بیٹھا ہوا ہے توکیا برطانیہ ڈرون حملہ کرنے کی اجازت دے گا؟ امریکا ہمارا دوست ہے اورہمارے ہی ملک میں ڈرون حملے کرتا رہا، جب یہ سب کچھ ہورہا تھا تو میں نے اس کی مخالف کی جس پر مجھے ’طالبان خان‘ کہا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مائیک مولن نے کھلی سماعت میں کہا امریکا ڈرون حملے حکومت پاکستان کی اجازت سے کررہا ہے، کھلی سماعت میں کہاگیا کہ حکومت پاکستان اپنے عوام سے کیوں جھوٹ بولتی ہے؟  اسامہ بن لادن پر ایبٹ آباد میں امریکا نے حملہ کیا تو ہمارے بیرون ملک پاکستانی چھپ گئے۔

عمران خان نے مزید کہا کہ اس وقت ہمیں معلوم ہی نہیں تھا کہ ہمارا دوست کون ہے اور دشمن کون ہے، دونوں طرف پاکستانی مارے جارہے تھے، کیا کوئی دوست ملک اپنے اتحادی کے ملک میں بمباری کرتا ہے؟ ہمارے ملک میں اجازت دی گئی اور پھر کہتے تھے ہم ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہیں، اس وقت کی حکومت کا حوصلہ نہیں تھا کہ وہ امریکا کو انکار کرتے، عوام سے جھوٹ بولا جاتا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھاکہ امریکا افغانستان کی جنگ نہیں جیت رہا تھا ہمیں برا بھلا کہا گیا، ہم پر افغان معاملے میں دوہری پالیسی کا الزام عائد کیا گیا، ہم افغانوں کو جانتے ہیں، ہمارے بھائی ہیں، انہوں نے کبھی بیرونی مداخلت برداشت نہیں کی، امریکا نے افغانستان سے جانے کی تاریخ دے دی، ہمیں کہا جارہا ہے کہ طالبان کوٹیبل پرلے آئیں۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھاکہ مجھے سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان امریکا کواڈے دے گا؟ ہمارا افغانستان میں کوئی فیورٹ نہیں جو افغان عوام چاہتے ہیں، ہم افغانستان میں صرف امن چاہتے ہیں یہی ہمارے مفاد میں ہے، ہم ان کے ساتھ ہیں، پاکستان اب کسی صورت اپنی خودمختاری پرسمجھوتا نہیں کرے گا، امریکا کے ساتھ امن کے شراکت دارہیں جنگ کے ہرگزنہیں۔

اسمبلی میں تقریر کے دوران وزیراعظم عمران خان کے 'دہشت گردی کیخلاف جنگ' پر مؤقف پر اپوزیشن ڈیسک بھی بج اٹھے اور جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) ارکان نے حمایت میں ڈیسک بجائے۔

 

257678

نظرات بینندگان
captcha