’جبراَ تبدیلی ٔ مذہب کرانے کا الزام بے بنیاد ہے/ فرقہ واریت کی کوشش

IQNA

شاہی امام مسجد فتحپوری دہلی

’جبراَ تبدیلی ٔ مذہب کرانے کا الزام بے بنیاد ہے/ فرقہ واریت کی کوشش

17:59 - July 04, 2021
خبر کا کوڈ: 3509720
تہران (ایکنا) شاہی امام مسجد فتحپوری دہلی مفکر ملت مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد نے آج نماز جمعہ سے قبل خطاب میں مسلمانوں سے اپیل کی کہ خود بھی پکے اور سچے مسلمان بنیں اور نوجوانوں کی دینی تربیت میں مشغول رہیں۔

روزنامہ سہارا کے مطابق شاہی امام مسجد فتحپوری دہلی مفکر ملت مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد نے آج نماز جمعہ سے قبل
خطاب میں مسلمانوں سے اپیل کی کہ خود بھی پکے اور سچے مسلمان بنیں اور نوجوانوں کی دینی تربیت میں مشغول رہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی کچھ ریاستوں میں آئندہ سال الیکشن ہونے والے ہیں اترپردیش میں بھی 2022میں الیکشن ہیں اسی لئے فرقہ پرستی او رمسلم دشمنی کو بڑھاوا دینے میں فرقہ پرست تنظیمیں پیش پیش ہیں کہیں مسلمانوں کی لنچنگ ہورہی ہے تو کہیں مسجدوں اور مدرسوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔کچھ چینل بھی بدنام کرنے میں آگے آگے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ 6-7 مہینے یہی عمل چلتا رہے گا اس سے حکمت عملی کے ساتھ نمٹنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ کو سراہا۔ پٹیشن میں جبراََ تبدیلی ٔ مذہب کا الزام لگا تے ہوئے کہا گیا تھا کہ مسلم اکثریت والے ایریے  میں ہندوؤں پر دباؤ بنایا جا رہا ہے ۔یہاں کے ہندو دہشت میں ہیں یہاں پولیس ناکافی ہے اس لئے نیم فوجی دستہ کو تعینات کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پٹیشن کو خارج کر دیا اس سے فرقہ پرست عناصر کو زبردست جھٹکا لگا ہے اس فیصلہ کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے ایسے ہی حکومت کوبھی فیصلے لینے چاہئیں۔ سچ تو یہ ہے کہ جبراََمذہب تبدیل کرانے کا مسلمانوں پر الزام غلط اور بے بنیاد ہے ۔مذہب اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا ۔ مفتی مکرم نے یوپی اقلیتی کمیشن کے نئے چیئرمین اشفاق سیفی سے مطالبہ کیا کہ مساجد و مدارس نیز مسلمانوں کے جان ومال کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے اورپچھلے سالوں میں جن پر ظلم ہوا ہے انہیں انصاف دلایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ڈی میڈیکل کالج گورکھپور کے ڈاکٹرکفیل خان کی معطلی ابھی تک چل رہی ہے حالانکہ الٰہ آباد ہائی کورٹ سے بھی انہیں الزامات سے بری کر دیا گیا ہے ۔انہوں نے انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کو بھی خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ ان کے مسئلہ پر غور کیا جائے ابھی تک ان کی سنوائی
نہیں ہوئی ہے ۔یوپی اقلیتی کمیشن کو اس معاملہ میں کارروائی کرتے ہوئے حق کا ساتھ دینا چاہئے ۔

 

نظرات بینندگان
captcha