
رپورٹ کے مطابق تین ہزار سے زاید بوسنین مسلمانون نے سربرنیسٹا واقعے کے جان بحق افراد کے ساتھ یکجہتی و ہمدردی کے اظھار کے طور پر جمعرات کو بوسنیا کے مرکزی علاقے نزوک میں ریلی نکالی اور قتل عام کی مذمت کرتے ہوئے واقعے کی یاد کو تازہ کیا۔
مذکورہ ریلی سترہ سال سے نکالی جارہی ہے جس میں مظاہرین ۱۰۰ کیلو میڑ کا راستہ طے کرتے ہوئے ۱۰ جولائی کو پوتوچاری (Potochari) قبرستان جو شمال مشرقی بوسنیا میں اختتام پذیر ہوتی ہے۔
یہ وہ راستہ ہے جب ۱۹۹۵ کو ہزاروں سربرنیسٹا کے مسلمان صربوں سے جان بچانے کے لیے بھاگتے ہوِئے طے کرچکے تھے۔
مظاہرہ ترتیب دینے والی کمیٹی کے انچارج «زلوو صالح اویچ» کا کہنا تھا کہ ریلی میں تین ہزار لوگ شریک ہیں جنمیں ترکی اور بعض دیگر ممالک کے لوگ بھی شامل ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ صرب فورسز نے راٹکوملادیچ کی سربراہی میں جولائی ۱۹۹۵ میں اس اعلان کے بعد کہ بوسنیا امن کا علاقہ ہے سربرنیسٹا میں داخل ہوئی اور لوگوں کا اجتماعی قتل عام کیا۔
صرف فورسز نے صرف چند روز میں آٹھ ہزار بوسنیائی مسلمانوں کو قتل کیا جنمیں سات سال سے ستر سال تک کے لوگ شامل تھے اور یہ اس وقت جب بوسنیا میں مقیم ہالینڈ کی فوج نے ہزاروں بوسنیائی مسلمانوں کو صرب فورسز کے سپرد کیا ۔/