
رپورٹ کے مطابق سربنیٹسا میں صربوں کے ہاتھوں گیارہ جولائی ۱۹۹۵ کو مسلم نسل کشی کا بدترین واقعہ پیش آیا اور یہ ظلم امن فورسز کی موجودگی میں کیا گیا جو متمدن دنیا کے لیے لمحہ فکریہ ہے اور عصر حاضر میں مسلم نسل کا بدترین واقعہ قرار دیا جاسکتا ہے۔
اس واقعے کو چھبیس سال گذر چکا ہے تاہم اب تک بعض لاشیں غائب ہیں کیونکہ ظالم صربوں نے ان افراد کو اجتماعی قبروں میں دفنایا تھا۔
بہت سے مورخین کے مطابق سربنیٹسا کا قتل عام یورپ میں دوسری جنگ عظیم کے بعد بدترین واقعہ ہے جو یوگوسلاوی فیڈریشن ٹوٹنے کے بعد رونما ہوا ہے جہاں لاکھوں مسلمانوں کی نسل کشی اور اخراج کیا گیا۔
سروے کے مطابق صربوں نے ۸۰۰۰ مسلمانوں کا قتل کیا جنمیں بچے، خواتین اور بوڑھے شامل تھے اور یہ قتل عام گیارہ دن تک جاری رہا مگر عالمی برادری خاموش تماشائی بنی رہی۔
اب تک سات ہزار لاشیں مل چکی ہیں اور بہت سے خاندانوں کے افراد کا اب تک کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔
بوسنیا میں ہر سال سربنیٹسا واقعے کی یاد میں تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔/