
رپورٹ کے مطابق لبنان کے ممتاز عالم دین اور مفتی شیخ احمد قبلان نے ملکی حوالات کو نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک ایک بڑے بحران کے آستانے پر ہے اور داخلی جنگ سے بچنے کی اشد ضرورت ہے اور سازشوں سے ہوشیار رہا جائے کہ ملک مزید ٹکڑوں کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے بیان میں کہا کہ ہمیں ماضی کی داخلی جنگ کو یاد رکھنا چاہیے ان تجربوں کو یاد رکھتے ہوئے ایک بڑے خطرے سے بچنا چاہیے۔ اس میں شک نہیں کہ ملک اقتصادی فساد، غارت اور ایک سیاسی و معاشی بحران سے دوچار ہوا ہے لیکن اس کو داخلی کوششوں سے حل کرنا ہوگا کیونکہ بعض بیرونی لوگ اس کے لیے خطرناک منصوبے بنا چکے ہیں۔
انکا کہنا تھا کہ لبنان کی تقسیم کو کوئی قبول نہیں کرتا اور باہمی ہم آہنگی اور اتحاد سے مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے لہذا بیرونی ہاتھوں اور سفارت خانوں کی سازشوں سے دور رہنے کی ضرورت ہے۔
انکا مزید کہنا تھا کہ کچھ لوگ ہیں جو لبنان کو بدترین مسائل و مشکلات میں جھونک دینا چاہتے ہیں اور اس کے لیے عوام اور قومی مفادات سب کچھ برباد کرسکتے ہیں لیکن دیکھنا چاہیے کہ درست راہ حل کیا ہے؟ جو بھی ان مسائل کے حل کے لیے درست کوشش کرتے ہیں اسکا ساتھ دینا چاہیے، میری تاکید ہے کہ بین الاقوامی گیمز اور سازشوں سے ہوشیار رہنا ہوگا۔/