
رپورٹ کے مطابق یمن کی قومی حکومت کے نگران اعلی اور عوامی تحریک انصار اللہ کے سربراہ نے کہا ہے کہ اسرائیل اور اس کے حامیوں کو حتمی شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔
محرم الحرام کے آغاز کے موقع پر اپنے خطاب میں انصار اللہ کے سربراہ اور یمن کی قومی حکومت کے نگران اعلی سید عبدالملک بدرالدین الحوثی نے کہا کہ وعدہ الہی کی رو سے ، اسرائیل، اس کے دوستوں اور اس کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنے والوں کی شکست یقینی ہے۔
انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے ذرائع ابلاغ صیہونی دشمن کی خدمت میں مصروف ہیں۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرنے والے صیہونی دشمن کو کلین چیٹ اور استقامی محاذ کی سرزنش کر رہے ہیں۔
یمن کی قومی حکومت کے نگران اعلی نے غزہ کی حالیہ جنگ میں صیہونی حکومت کی شکست کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جنگ سیف القدس نے امت مسلمہ کو ایک بار پھر سربلند اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات عادی بنانے والوں کو رسوا کردیا ہے۔
سید عبدالملک بدرالدین الحوثی نے سعودی عدالتوں کی جانب سے بعض فلسطینیوں کو سنائی جانے والی سزاؤں پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک بار پھر اغوا کرکے قیدی بنائے جانے والے فلسطینی شہریوں کے خلاف سعودی عدالتوں کے ظالمانہ فیصلے کی مذمت کرتے ہیں۔
انہوں نے ایک بار پھر یمنی فوج کی قید میں موجود سعودی فوجی افسران کا سعودی عرب میں بند فلسطینیوں کے ساتھ تبادلہ کرنے کی پیشکش کا اعادہ بھی کیا۔.
انصارالله رہنما نے کہا کہ آل سعود کی مشکل یہ ہے کہ وہ حماس کو اسرائیل سے دشمنی کرنے کی وجہ سے مجرم سمجھتی ہے۔
الحوثی نے کہا کہ فلسطین کی حمایت سعودی اور امارات کے نزدیک جرم شمار ہوتا ہے اور یہ بہت بڑا انحراف ہے۔
انصار الله نے حزب اللہ کی جانب سے بھرپور اسرائیل جواب کو سراہتے ہوئے کہا کہ خیانت کار لوگ حزب اللہ سے انتقام کے درپے تھے جب کہ یہی لوگ اسرائیل کے مظالم پر خاموش ہیں۔
انصار الله نے کہا کہ شکست کے باوجود سعودی کی جانب سے یمن پر مسلسل جنگ تھوپنے کی کوشش امریکی اور اسرائیلی پروجیکٹ ہے۔
انکا کہنا تھا کہ جنگ و حملوں کے باوجود یمن سے صلح کی بات جایز نہیں اور امن و صلح کے لیے مقاصد موجود ہیں تو یمن اس کا اولین حقدار ہے۔/