
فلسطینی اعتراضات کے باوجود حرم ابراھیمی میں لفٹ لگانے کا کام شروع کیا گیا ہے جس کو فلسطینیوں نے تاریخی میراث ختم کرنے کی کوشش قرار دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق فلسطینیوں کے شدید اعتراضات کو نظر انداز کرتے ہوئے صیھونی حکام نے مسجد ابراھیمی میں اسکلیٹر لگانے کا کام شروع کردیا ہے۔
اسرائیلی وزارت جنگ نے گذشتہ روز ٹوئٹ کیا تھا کہ وزیر دفاع بینی گانٹز حرم ابراھیمی کی سفارش میں حرم میں سہولت کے لیے لفٹ لگانے کا کام شروع کیا گیا ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ مذکورہ پروجیکٹ صیھونی وزارت جنگ کی زیرنظارت شروع کیا گیا ہے جو امکانی طور پر چھ مہینے میں مکمل ہوگا۔
صیھونی وزارت جنگ کے مطابق پروجیکٹ میں پارکنگ تک آسان دست رسی کا کام شامل ہے تاکہ زائرین آسانی سے اوپر تک آسکے۔
فلسطینیوں نے متعدد بار مظاہرہ کیا اور حرم ابراہیمی میں تعمیراتی کاموں کی اس کی تشخص ختم کرنے اور صیھونی بالادستی کی کوشش قرار دیا ہے۔
فلسطینی وزارت اوقاف کے مطابق حرم ابراھیمی اسلامی وقف ہے اور غیر مسلم کو اس میں تبدیلی کا اختیار نہیں۔
عالمی ادارہ یونیسکو نے جولاِئی ۲۰۱۷ کو مسجد ابراہیمی اور الخلیل شہر کے قدیم حصے کو عالمی میراث میں قرار دیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ صیھونی حکام نے ۱۹۷۲ کو اعلان کیا تھا کہ صیھونی آباد کار اس مسجد کے گوشے میں عبادت کرسکتے ہیں۔ فروری ۱۹۹۴ کو مسلمانوں کے قتل عام کے بعد جسمیں ۲۹ نمازی شہید ہوگیے تھے اور سینکڑوں دیگر زخمی ہوئے تھے اس کے بعد اعلان کیا گیا کہ یہودیوں کی عید یا عبادت کے موقع پر مسلمان مسجد میں نہیں آسکتے ہیں۔
الخیل شہر کے قدیم حصے میں چارسو صیھونی آباد کار رہتے ہیں جنکی حفاظت کے لیے ایک ہزار پانچ سو صیھونی سیکورٹی فورس موجود ہیں۔/