
رپورٹ کے مطابق «امریکن مسلمان» میں نسل پرستی اور اسلامو فوبیا کو ٹرمپ دور میں ہونے والے مسائل کے حوالے تیار کی گیی ہے۔
مسلم چینل کی ڈائریکٹر آنیلا افضلی کا کہنا ہے: یہ فلم حقیقی معنوں میں مسلم اور غیر مسلم کے درمیان پل کا کردار ادا کرسکتی ہے۔
فلم ساز ایڈم زکر اس فلم میں نیویارک کے پانچ باشندوں کی زندگی کی عکاسی کرتا ہے جو امریکہ میں مسلمانوں کے سفر پر پابندی کے دوران اپنی فیملیوں سے جدا ہوجاتے ہیں، یہ افراد یمنی، سوڈانی، بنگلہ دیشی، انڈونیشیائی اور فلسطینی باشندے ہیں۔
Interfaith Works فاونڈیشن کے سربراہ کوری پاسونز کا کہنا ہے کہ فلم اگرچہ سیاسی ہے تاہم اس میں انسانی پہلو کو بھی فوکس کیا گیا ہے۔
پاسونز کا کہنا ہے کہ فلم میں مختلف معاشروں کو ایک وینڈوز سے دیکھا گیا ہے کہ فلم سے ہٹ کر اس طرح تشخیص دینا مشکل کام ہے۔
افضلی کا کہنا ہے کہ اس سے مسلم معاشرے کی شناخت اور انکی مشکلات کی کمی میں مدد مل سکتی ہے۔
انکا کہنا تھا کہ اس طرح کے معاملات سے ہم اپنے ہمسایوں کو بہتر انداز میں پہچان سکتے ہیں اور بقائے باہمی میں مدد مل سکتی ہے۔
مذکورہ فلم Interfaith Works فاونڈیشن کی جانب سے فری میں نمایش کے لیے پیش کی گیی ہے اور اسلامی مرکز اولمپیا اور مذہبی مرکز Interfaith Community Sanctuary & School کا بھی اس میں تعاون شامل ہے جب کہ فلم پندرہ سے سترہ اگست تک نمایش کے لیے پیش ہوگی۔
فلمساز بدھ کو ایک آن لاین نشست میں فلم کے حوالے سے سوالات کے جوابات دیں گے۔/