
رپورٹ کے مطابق سلامی کونسل کا افغانستان کے حوالے سے ہنگامی اجلاس بلایا گیا جسمیں روس، چین، ہندوستان اور امریکہ کے نمایندوں نے اظھار خیال کیا۔
اس ہنگامی اجلاس میں افغان عوام کی سیکورٹی کو موضوع بنایا گیا تھا اور سلامی کونسل کے ممبروں نے طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ عوامی حفاظت کو یقینی بنائے اور کہا کہ سرحدوں کو بھی کھلا رکھا جائے اور ملک سے باہر جانے والوں کو روکا نہ جائے۔
مستقل اراکین نے طالبان اور القاعدہ رابطوں پر تشویش کا اظھار کیا اور بعض اراکین نے خدشہ کا اظھار کیا کہ طالبان نے القاعدہ سے تعلقات ختم نہیں کیا ہے۔
ممبر ممالک نے تاکید کی کہ طالبان بین الاقوامی قوانین اور مطالبوں کو اہمیت دیں۔
اقوام متحدہ میں افغانستان کے نمایندے غلام محمد اسحاقزی نے بھی طالبان سے عوامی حقوق کی رعایت کا مطالبہ کیا اور بڑی طاقتوں سے درخواست کی کہ ہو جبری حکومت کو تسلیم نہ کریں.
اس ہنگامی نشست میں جنرل سیکریٹری اقوام متحدہ گوٹریس نے کہا کہ دنیا افغانستان پر پریشان ہے اور طالبان کو انسانی حقوق کی رعایت کرنی ہوگی۔
امریکہ نے بھی مطالبہ کیا کہ بیرون ملک جانے والے افغان کو روکا نہ جائے اور ہمسایہ ممالک بھی انکو پناہ دینے سے گریز نہ کریں۔
چین نے بھی کہا کہ وہ طالبان سے رابطے میں ہے اور صورتحال کا جایزہ لے رہا ہے۔
روس نے کہا کہ دنیا اس تیزی سے بدلتی صورتحال پر حیران ہے اور طالبان سے کہتے ہیں کہ انسانی جانوں کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔
روسی نمایندے کے مطابق داعش خراسان کے حوالے سے کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
برطانیہ کے نمایندے نے کہا کہ خواتین اور بچوں کے حقوق کو دیکھنا ہوگا اور امید ہے کہ ملک کو دہشت گردی کا مرکز نہیں بنایا جائے گا۔
انڈیا کے نمایندے نے کہا کہ کابل ائیرپورٹ کے مناظر عجیب ہیں کہ خواتین بچے اور لوگ خوفزدہ ہیں اطمینان دینا ہوگا کہ اس سرزمین سے کسی کے خلاف سازش نہیں ہوگی۔
پاکستان کے نمایندے کو اجلاس میں نہیں بلایا گیا تھا جس پر پاکستان نے اعتراض کیا۔/