امریکی دانشور: قرآن اسلام کو امن کا مذہب پیش کرتا ہے

IQNA

امریکی دانشور: قرآن اسلام کو امن کا مذہب پیش کرتا ہے

9:56 - August 25, 2021
خبر کا کوڈ: 3510092
تہران(ایکنا) مشی گن یونیورسٹی کے استاد کا کہنا ہے کہ مغربی تصورات کے برعکس قرآن کے مطابق اسلام امن و آشتی کا مذہب ہے جو صرف دفاع کے لیے جنگ کی بات کرتا ہے۔

امریکی دانشور اور یونیورسٹی استاد خوان کول نے تاکید کی کہ انہوں نے اپنی کتاب میں ثابت کیا ہے کہ قرآن کے رو سے اسلام امن کا مذہب ہے۔

خوان کول اپنی کتاب «Muhammad: Prophet of Peace Amid the Clash of Empires»(محمد رسول الله شہنشاوں کی کشمکش میں) میں لکھتا ہے کہ اسلام امن اور جنگوں کے خاتمے کے لیے آیا۔

مذکورہ کتاب عمرو بسیونی اور هشام سمیر کے توسط سے ابن الندیم پبلیکیشن کے تعاون سے عربی میں ترجمہ اور شایع ہوچکی ہے۔

خوان کول الجزیره سے گفتگو میں کہتا ہے: میرے خیال میں قرآن میں موجود امن و آشتی والی کثیر تعداد میں آیات سے غفلت کی گیی ہے۔

انکا کہنا تھا کہ ہجرت سے پہلے اور بعد دونوں اوقات کی آیات میں امن کی تاکید کی گیی ہے اور جنت کو امن کا ہم پلہ قرار دیا گیا ہےاور فرشتے امن و محبت کے ساتھ خوش آمدید کہتے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ خدا پنے بندوں کو امن و سکون عنایت کرتا ہے اور امن سے دنیا جنت بن سکتی ہے اور قرآن مسلسل امن کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور جنگ کی بات صرف دفاع کے لیے کرتا ہے۔

 

مشی گن یونیورسٹی کے استاد سوره فصلت کی آِیات کی بات کرتا ہے: «وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ ﴿۳۳﴾ وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۚ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ ﴿۳۴﴾۔

وہ رسول اکرم (ص)  کے اخلاق اور مشرکوں سے رویے کی بات کرتا ہے کہ قرآن واضح کرتا ہے کہ مشرک اپنے دین پر پابند رہنے کے مجاز ہیں اور رسول اکرم ص بھی اپنے دین پر عمل کے پابند ہے اور سورہ کافرون یہی کہتا ہے

:  قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ﴿۱﴾ لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ ﴿۲﴾ وَلَا أَنْتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ ﴿۳﴾ وَلَا أَنَا عَابِدٌ مَا عَبَدْتُمْ ﴿۴﴾ وَلَا أَنْتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ ﴿۵﴾ لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ ﴿۶﴾:

انکا کہنا تھا : شهر مدینه منوره پر حملے کے باوجود   سوره ممتحنه میں مومنوں کو اچھے تعلق کی تاکید کی جاتی ہے کہ «عَسَى اللَّهُ أَنْ يَجْعَلَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الَّذِينَ عَادَيْتُمْ مِنْهُمْ مَوَدَّةً ۚ وَاللَّهُ قَدِيرٌ ۚ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ:

ترجمہ: امید ہے کہ خدا تمارے اور جن کو دشمن قرار دیتے ہو ان میں دوستی رابطہ برقرار کرے اور خدا مہربان اور توانا ہے۔

 

امریکی دانشور صلح حدیبیہ کے حوالے سے کہتا ہے: سال ۵۲۸ عیسوی میں رسول اکرم(ص) صلح الحدیبیه کے حوالے سے بات کرتے ہیں اور راضی ہوتے ہیں کہ معاہدے میں صرف محمد بن عبدالله لکھا جائے اور محمد رسول الله نہ لکھے بھی کوئی بات نہیں۔

 

کول کا کہنا ہے کہ انسانیت رسول اسلام سے درس لے سکتی ہے جو ہمیشہ عفو و بخشش سے کام لیتے تھے جب کہ آپ سے پہلے عربی ادبیات میں نسخوں میں انتقام و جنگ کی بات عام تھی۔

 

امریکی دانشور تاکید کرتے ہیں: قرآن سب سے چاہتا ہے کہ وہ رنگ و نسل میں فرق کی خوبصورتی کو سمجھنے کی کوشش کریں اور بلاتفریق ایک دوسرے کی ویلیوز کو سمجھیں جیسے کہ سورہ حجرات میں خدا فرماتا ہے:

:  «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ ﴿۱۳): اے لوگوں؛ ہم نے تمھیں ایک ہی مرد و زن سے پیدا کیا اور تمھیں مختلف قبایل میں قرار دیا تاکہ ایکدوسرے کو بہتر جان لو[ یہ برتری کا معیار ہرگز نہیں] تمھارے درمیان برتروہ ہے جس کا تقوی زیادہ ہے اور خدا جاننے والا آگاہ ہے۔

کول کے مطابق سوررہ حجرات کا یہی پیغام اکیلا دنیا کی بہت سے کشمکش اور جھگڑوں کو ختم کرسکتا ہے۔/

3992800

نظرات بینندگان
captcha