نایجیریا میں عیسائی پادری کی جانب سے مسجد کی تعمیر

IQNA

نایجیریا میں عیسائی پادری کی جانب سے مسجد کی تعمیر

8:36 - August 28, 2021
خبر کا کوڈ: 3510110
تہران(ایکنا) فرقہ وارانہ مشکلات کے باوجود کھیتولک پادری نے ابوجا میں مسجد قایم کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کھیتولک پادری کلیسٹوس ایسارا کے تعاون سے ابوجا کے مضافاتی گاوں باگاڈا میں مسجد تیار کی گیی ہے جس کی تعمیر میں ایک سال کا عرصہ لگا اور مئی کے آغاز میں اس مسجد کا افتتاح کیا گیا ۔

 

پادری کلیسٹوس ایسارا نے اناطولیہ نیوز سے گفتگو میں کہا: ہم تبلیغی سرگرمیوں کے حوالے سے ۱۹۹۸ کو اس گاوں میں گیے جہاں ہم نے ایک اسکول اور چائلڈ سنٹر کا قیام عمل میں لایا، اس گاوں میں اگرچہ مسلمان اکثریت میں تھے مگر انہوں نے کوئی رکاوٹ تعمیر نہیں کی۔

 

 مذکورہ پادری کا کہنا ہے کہ اس گاوں میں کوئی مدرسہ نہیں تھا گاوں کے سربراہ نے ہمیں اسکول کے لیے زمین بھی دیا۔

 

پادری کلیسٹوس ایسارا کا کہنا تھا: اس گاوں کی مسجد کی حالت خستہ تھی اور مسلمان افراد مجبورا اسکول کے سامنے خالی جگہ پر نماز ادا کرتے تھے لہذا نے گاوں کے اہم افراد سے مشورہ کیا اور کہا کہ ایک نئی مسجد تعمیر کرنا چاہتا ہوں۔

 

انکا کہنا تھا کہ مسجد کی تعمیر کے دوران ایک تاجر سے مدد کی درخواست کی جس پر اس عرب تاجر نے خوشی کا اظھار کرتے ہوئے تعاون فراہم کیا اور یوں انکی مدد سے مسجد مکمل کی گیی۔

 

مسجد کی تعمیر کے بعد سے مسلمان اس مسجد میں پادری کلیسٹوس ایسارا کو مسلم- عیسائی جھگڑوں کے حوالے سے آگاہ کرسکتا ہے  جو عام طور پر شمالی نایجیریا میں پیش آتا ہے، حالانکہ اسلام اور عیسائی دونوں مذاہب امن و محبت کی بات کرتے ہیں۔

 

نایجیریا میں عیسائی پادری کی جانب سے مسجد کی تعمیر
 
انکا کہنا تھا کہ مسجد کی تعمیر پر بعض عیسائی افراد نے اعتراض بھی کیا مگر میں نے واضح کیا کہ اسلام اور عیسائی ایکدوسرے کے دشمن نہیں اور خاص کر اس گاوں میں رہنے والے مسلمانوں اور عیسائیوں ک درمیان بہت اچھا رابطہ موجود ہے۔

 

دوسری جانب گاوں کے سربراہ حاجی اومارو کا کہنا تھا کہ اس گاوں میں سالوں سے عیسائی اور مسلمان یکجا پرامن طریقے سے رہتے ہیں اور گاوں کی مسجد انکی دوستی کی نشانی ہے۔
  
انکا کہنا تھا کہ مذہبی جھگڑوں کو ختم کرنا چاہیے اور اس مسجد میں سب کو عبادت کرنی چاہیے۔/

3993313

نظرات بینندگان
captcha