
رپورٹ کے مطابق کرغیزستان کے وزیر خارجہ رؤسلان قزاق بایف نے مرکزی ایشیاء میں شدت پسندانہ افکار کی ترویج کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔
انکا کہنا تھا کہ ان ممالک میں چار ہزار افراد کو شدت پسند تنظیمیں بھرتی کر چکی ہیں جن کو مغربی ممالک میں دہشت گردی کے لیے داعش وغیرہ استعمال کررہی ہے۔
یوکے اور روس کے حالیہ واقعات کے علاوہ اسٹاک ہوم میں اپریل ۲۰۱۷ کو اور اسی طرح استنبول میں کریسمس کے موقع پر حملوں میں ان ہی جوانوں کو استعمال کیا گیا ہے۔
ان خطرات کو ان رپورٹوں کے تناظر میں درست قرار دیا جاسکتا ہے کہ عراق، شام اور لیبیا میں سنگین شکست کے بعد داعش مرکزی ایشیاء میں خود کو مضبوط کررہی ہے جن سے نمٹنے کے علاقایی ممالک کی مشترکہ کاوش لازم ہے تاکہ جوانوں کو ان تنظیموں کی جانب مایل ہونے سے روکا جاسکے۔
افغانستان میں طالبان قبضے کے بعد سے ان خدشات اور خطرات کو تقویت ملتی ہے کہ داعش ایشاء کے مرکزی ممالک میں خود کو مضبوط کرسکتی ہے۔/