
رپورٹ کے مطابق اسلامی تعاون تنظیم کے جنرل سیکریٹری یوسف بن احمد نے بغداد اجلاس میں کہا: عراق ایک تعمیراتی اور از سر نو ترقی کی حالت میں ہے اور اس میں غیرملکی مداخلت کو روکنے کی ضرورت ہے۔
بن احمد نے عراق کے ہمسایہ ممالک کے اجلاس سے خطاب میں مزید کہا کہ اس اجلاس میں شرکت پر خوشی ہے اور اس میں ملکر کام کرنے پر بات کی جاتی ہے جہاں عراق کو بھی دیگر ممالک کی حمایت کی اہم ضرورت ہے۔
انکا کہنا تھا کہ سعودی عرب تمام ممالک کے تعاون اور مدد کی حمایت کرتا ہے تاکہ عراق دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں کامیاب ہوسکے۔
بن احمد کا کہنا تھا: عراق کو اس مرحلے میں غیرملکی مداخلت روکنے کی ضرورت ہے اور تمام اسلامی و عرب ممالک کو اس مرحلے میں تعاون کرنا چاہیے۔
بن احمد کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ عراق اپنی گمشتہ عظمت اور مقام کو دوبارہ حاصل کرے گا۔
عراق کے دو روزہ ہمسایہ ممالک کا اجلاس « بغداد تعاون کانفرنس» کے عنوان سے شروع ہوچکا ہے جہاں وزیراعظم مصطفی الکاظمی نے بھی خطاب کیا۔
اجلاس میں فرانس کے صدر«امانوئل میکرون»، «عبدالفتاح السیسی»، مصر اور اردن کے «عبدالله دوم»، تمیم بن حمد بن خلیفه آل ثانی، امیر قطر، کویت کے وزیراعظم «صباح خالد الحمد الصباح» ، محمد بن راشد آل مکتوم، حاکم دبئی اور عرب لیگ کے سیکریٹری احمد ابوالغیط، سمیت دیگر اعلی حکام شریک ہیں۔
ایران، سعودی عراق، کویت ، ترکی اور ام کے علاوہ قطر، امارات، مصر اور سلامتی کونسل کے نمایندوں کے علاوہ جاپان شریک ہے۔
اہم اجلاس میں شام کی کمی کو محسوس کیا جارہا ہے اور عراق کا کہنا ہے کہ شام پر اختلافات کے پیش نظر انکو دعوت نہیں دی گیی ہے مگر شام سے رابطہ برقرار ہے۔
عراق کا کہنا ہے کہ اقتصادی پیشرفت اور عراق کے ہمسایہ ممالک کے درمیان اختلافات کو کم کرنے کے حوالے سے اس اجلاس کو بلایا گیا ہے۔
ایران کے نومنتخب وزیر خارجہ حسین امیر عبداللهیان اعلی وفد کے ہمراہ اپنے پہلے غیرملکی دورے میں اس اجلاس میں شریک ہیں۔/