دولت مشترکہ پر طالبان کی آمادگی اور پنجشیر جنگ میں القاعدہ کی شرکت

IQNA

اپ ڈیٹ افغانستان؛

دولت مشترکہ پر طالبان کی آمادگی اور پنجشیر جنگ میں القاعدہ کی شرکت

8:57 - September 03, 2021
خبر کا کوڈ: 3510156
تہران(ایکنا) طالبان حکومت نے ایک مشترکہ حکومت پر آمادگی کا اعلان کیا ہے جبکہ مذاکرات میں ناکامی کے بعد پنجشیر میں جنگ چھیڑ چکی ہے۔

طالبان کے سنئر نمایندے احمد اللہ متقی کے مطابق حکومت کی تشکیل کا اعلان ارگ سے ہوگا اور ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق اعلان جلد متوقع ہے۔

 

انکا کہنا ہے کہ حکومت کی مشروعیت بہت اہم ہے کیونکہ افغانستان خشک سالی اور جنگوں کی مشکلات سے دوچار ہے۔

 

پنجشیر میں جنگ کا تیسرا دن

پنجشیر میں جنگ تین دن سے جاری ہے اور  احمد مسعود کے مطابق طالبان کو بھاری نقصان پہنچایا گیا ہے۔

 

طالبان اور پنجشیر کی مزاحمتی فورسز کے درمیان جنگ گلبھار کے علاقے میں ہورہی ہے اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جارہا ہے۔

 

دونوں جانب ایک دوسرے پر جنگ شروع کرنے کا الزام عاید کررہا ہے۔

 

 

عوام دونوں طرف سے پرامید ہے کہ وہ جنگ چھوڑ کر سیاسی راہ حل نکال لیں گے۔

 

بعض زرایع کے مطابق طالبان پنجشیر پر حملے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔

 

کابل ائیرپورٹ کھولنے کے لیے قطر کی کوشش

قطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی کا  کہنا ہے ترکی اور طالبان سے گفتگو جاری ہے تاکہ کابل ائیرپورٹ کو انسانی حقوق کاموں کے لیے دوبارہ کھولا جاسکے۔

 

برطانوی وزیر خارجہ نے بھی قطری وزیر خارجہ سے غیرملکی اورافغان شہریوں کے بہ حفاظت خروج کے لیے ملاقات کی ہے۔

 

لندن طالبان کو تسلیم نہیں کرے گا

برطانوی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ لندن طالبان کو قبول نہیں کرے گا تاہم اس حوالے سے دیکھنا پڑے گا کہ طالبان کا رویہ کیسا ہوگا، انہوں نے کہا کہ برطانوی شہری اور برطانیہ سے تعاون کرنے والے افراد کے انخلا پر کام کیا جارہا ہے۔

 

افغان کمانڈوز کا سی آئی اے مرکز سے فرار

روپورٹ کے مطابق جمعرت کو امریکی  آپریشن میں سینکڑوں امریکی شہری اور افغانی کمانڈوز کو سی آئی اے کے ایک اڈے سے خفیہ طور پر ملک سے باہر نکالا گیا ہے۔

 

زرایع کا کہنا ہے کہ کم از کم ایک ہزار افغانی کمانڈوز کو انکے فیملی کے ہمراہ افغانستان سے باہر نکالا گیا ہے۔

اور «Eagle Base» (پایگاه عقاب) آپریشن کے زریعے سے ان افراد کو نکالنے کے بعد جرمنی منتقل کیا گیا ہے۔

 

روس کا افغانستان کو قومی دن منانے کا مشورہ

روسی سیاست داں «ولادیمیر ژیرینفسکی»  نے افغانستان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ امریکی انخلا کے دن کو قومی دن کے طور پر منائے۔

 

ژیرینفسکی نے کہا ہے کہ افغانستان میں اکتیس اگست کو قومی دن کے طور پر منایا جاسکتا ہے۔

 

 

پنجشیرجنگ میں القاعدہ طالبان کی مدد کے لیے پہنچ گیے

افغانستان کی مزاحمتی فورسز کے مطابق القاعدہ بھی طالبان کی مدد کررہی ہے اور وہ رسمی طور پر اس جنگ میں شریک ہوچکی ہے۔

 

ذبیح‌الله مجاهد کے مطابق طالبان نے گیارہ چیک پوسٹوں پر تسلط حاصل کرلیا ہے اور مزاحمتی فورسز کے ۳۴ جنگجووں کو ہلاک کیا جاچکا ہے ۔

 

 

کوئی خاتون وزیر نہیں

طالبان ترجمان کا کہنا تھا: نئی حکومت میں کوئی خاتون وزیر نہیں اور قرآن و شریعت کے رو سے خواتین وزیر نہیں بن سکتی تاہم مختلف اداروں میں مشیر کے طور پر وہ کام کرسکتی ہیں۔

 

ذبیح‌الله مجاهد کے مطابق یونیورسٹیوں میں خواتین کو تعلیم سے نہیں روکا جائے گا، انکا کہنا تھا کہ پنجشیر میں جنگ جاری ہے اور مذاکرات کا اب تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے۔/

3994720

 

نظرات بینندگان
captcha