
رپورٹ کے مطابق اگرچہ مختلف مذاہب میں نظریاتی اختلافات پائے جاتے ہیں تاہم افغان مہاجرین کے حوالے سے وہ یکجا نظر آئے۔
مختلف کلسیاوں نے مہاجرین کو پناہ دینے اور انکو خوراک دینے پر آمادگی کا اظھار کیا ہے جنمیں کھیتولک اور لیبرال پروٹسنٹ سب شامل ہیں۔
لوٹری امور مہاجرین کے سربراہ کریش اومارا ویگنارآجا کا کہنا تھا: قابل تعجب ہے، سب لوگ کھتیولک، لوٹری، مسلمان، یہودی اور ہندو سب نے ملکر مدد کرنے کا کہا ہے۔
انکا کہنا تھا کہ ایک تاریخی کاوش ہے اور چیلنجیز کا سامنا ہے جہاں ٹرمپ دور کی مہاجرین کے خلاف سختیوں کے آثار نمایاں ہیں۔
انکا کہنا تھا: بعض اداروں نے سو فیملیز کو پناہ دی گذشتہ سال میں اور اب بھی وہ اس تعداد میں مہاجرین کو پناہ دینے پر غور کررہے ہیں۔
امریکہ نے چودہ اگست سے قبل ایک لاکھ افراد کو افغانستان سے باہر نکالا ہے جنمیں سے پانچ ہزار امریکی شہری اور باقی افغان مہاجرین ہے جنہوں نے بیس سالہ جنگ میں امریکیوں کی مدد کی تھی۔
مشی گن یونیورسٹی کے استاد اسٹفین نوین کا کہنا ہے کہ مذکورہ فلاحی ادارے سرکاری امداد کے علاوہ عوامی امداد پر بھی کام کررہے ہیں تاکہ مہاجرین کے خوراک اور رہایش کا بندوبست ہوسکے۔
کھیتولک چرچوں کے الائنس نے بھی فلاحی کاموں کا خوش آیند قرار دیا ہے۔
شمالی امریکہ میں امور مہاجرین کے نمایندے هالا حلبی کا کہنا ہے کہ امریکہ بھر سے مسلمان ای میل اور مسیجز کے زریعے سے امداد دینے کے حوالے سے پیغامات دیں رہے ہیں ۔
حلبی نے کہا کہ ہر طرف سے امداد کی پیشکش اور تجاویز خوش آیند اور حیرت انگیز ہیں۔/