IQNA

20:05 - September 15, 2021
خبر کا کوڈ: 3510234
وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ امریکا نے دہشت گردی سے لڑنے کے لیے افغانستان پر حملہ کیا تھا لیکن غیرمستحکم افغانستان کے نتیجے میں وہاں سے پھر دہشت گردی کا خطرہ جن لے گا۔

ڈان نیوز کے مطابق امریکی خبر رساں ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے افغانستان کی صورتحال پریشان کن اور وہ اس وقت ایک تاریخی موڑ پر ہے، اگر وہاں 40سال بعد امن قائم ہوتا ہے اور طالبان پورے افغانستان پر کنٹرول کے بعد ایک جامع حکومت کے قیام کے لیے کام کرتے ہیں اور تمام دھڑوں کو ملاتے ہیں تو افغانستان میں 40سال بعد امن ہو سکتا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ عمل ناکامی سے دوچار ہوتا ہے جس کے بارے میں ہمیں بہت زیادہ خدشات بھی لاحق ہیں، تو اس سے افرا تفری مچے گی سب سے بڑا انسانی بحران پیدا ہو گا، مہاجرین کا مسئلہ ہو گا، افغانستان غیرمستحکم ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے افغانستان میں آنے کا مقصد دہشت گردی اور عالمی دہشت گردوں سے لڑنا تھا لہٰذا غیرمستحکم افغانستان، مہاجرین کا بحران کے نتیجے میں افغانستان سے پھر دہشت گردی کا خطرہ جنم لے سکتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ہم میں سے کوئی بھی یہ پیش گوئی نہیں کر سکتا کہ یہاں سے افغانستان کی صورتحال کیا نکلے گی، ہم صرف امید اور دعا کر سکتے ہیں کہ وہاں 40سال بعد امن قائم ہو، طالبان نے کہا کہ وہ ایک جامع حکومت چاہتے ہیں، وہ اپنے خیالات کے مطابق خواتین کو حقوق دینا چاہتے ہیں، وہ انسانی حقوق کی فراہمی چاہتے ہیں، انہوں نے عام معافی کا اعلان کیا ہے تو یہ سب چیزیں اس بات کا عندیہ دیتی ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ عالمی برادری انہیں تسلیم کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کو باہر سے بیٹھ کر کنٹرول نہیں کیا جا سکتا، ان کی ایک تاریخ ہے، افغانستان میں کسی بھی کٹھ پتلی حکومت کو عوام نے سپورٹ نہیں کیا لہٰذا یہاں بیٹھ کر یہ سوچنا کہ ہم انہیں کنٹرول کر سکتے ہیں، اس کے بجائے ہمیں ان کی مدد کرنی چاہیے کیونکہ افغانستان کی موجودہ حکومت یہ محسوس کرتی ہے کہ عالمی معاونت اور امداد کے بغیر وہ اس بحران کو نہیں روک سکیں گے۔

طالبان کی جانب سے افغان خواتین کو حقوق فراہم نہ کرنے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ ایک غلط تاثر ہے کہ باہر سے آ کر کوئی فرد افغان خواتین کو ان کے حقوق دے گا، افغان خواتین مضبوط ہیں، انہیں وقت دیں، وہ خود اپنے حقوق حاصل کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ 9/11 کے بعد امریکا کا اتحادی بننے کی وجہ سے پاکستان نے بہت کچھ بھگتا ہے، ایک وقت تھا کہ 50 شدت پسند گروپ پاکستان پر حملہ کررہے تھے، 80 کی دہائی میں پاکستان نے سوویت یونین کے خلاف امریکا کا ساتھ دیا، ہم نے مجاہدین کو تربیت دی تاکہ وہ افغانستان میں جہاد کر سکیں ان میں مجاہدین میں القاعدہ اور طالبان شامل تھے اور اس وقت یہ ایک مقدس کام تصور کیا جاتا تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ 9/11 کے بعد امریکا کو افغانستان میں ہماری ضرورت تھی، جیارج بش نے پاکستان سے مدد طلب کی اور اس وقت کہا تھا کہ ہم پاکستان کو دوبارہ تنہا نہیں چھوڑیں گے، پاکستان امریکا کی جنگ کا حصہ بن گیا، اگر میں وزیر اعظم ہوتا تو میں کبھی ایسا نہ کرتا۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے وہ مجاہدین تھے لیکن بعد میں ہم انہیں کہہ رہے تھے کہ کیونکہ امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا ہے تو اب آپ کے کام دہشت گردی ہیں، وہ ہمارے مخالف ہو گئے اور پاکستان کے تمام قبائل اور پشتون آبادی بھی طالبان کے حق میں ہو گئے اور اس کی وجہ مذہب نہیں بلکہ یہ تھی کہ وہ بھی پشتون تھے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کا ساتھ دینے کے نتیجے میں جہادی ہمارے خلاف ہو گئے، پشتون ہمارے خلاف کھڑے ہو گئے اور ہم نے شہری علاقوں میں جتنے زیادہ فوجی آپریشنز کیے تو اس کے اتنے ہی زیادہ نقصانات ہوئے اور ایک وقت میں 50 شدت پسند گروپ پاکستان پر حملہ آور تھے۔ عمران خان نے کہا کہ ان گروپس کے حملوں کے ساتھ ساتھ پاکستان میں 480 امریکی ڈرون حملے ہوئے اور یہ پہلا موقع تھا کہ کسی جنگ میں کسی ملک پر اس کے اپنے ہی اتحادی نے حملہ کیا ہو۔

دوران پروگرام وزیراعظم کو امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن کی افغانستان میں صورتحال کے حوالے سے گفتگو بھی سنائی گئی جس میں انہوں نے صورتحال کا ذمے دار پاکستان کو قرار دیتے ہوئے حقانی نیٹ ورک سمیت دہشت گردوں کو پناہ گاہیں فراہم کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔

اس پر وزیر اعظم نے کہا کہ میں نے ان کو سنا اور کسی بھی اس طرح نظرانداز کرتے نہیں دیکھا، انہیں کچھ پتا ہی نہیں ہے کہ افغانستان میں ہوا کیا ہے، وہ سب سکتے کی حالت میں ہیں، ریاست پاکستان دراصل امریکا کا ساتھ دینے کی وجہ سے حملوں کی زد میں تھی۔

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: