IQNA

9:48 - September 21, 2021
خبر کا کوڈ: 3510273
تہران(ایکنا) مشی گن پولیس مرکز میں فوٹوسیشن کے دوران اسکارف درست کرنے پر مسلمان وکیل خاتون پر تنقید کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔

القدس العربی کے مطابق مسلمان خاتون وکیل «امی ڈوکوری»(Amy Doukoure) کا کہنا تھا کہ اگر انکو کیا گیا جرمانہ جس کی رقم ڈھائی لاکھ ڈالر ہے کی رقم پر نظر ثانی کی جائے اور مشی گن میں فوٹوسیشن کے دوران پردے پر سیاست نہ کی جائے تو وہ شکایت سے دست بردار ہوسکتی ہے۔

 

انکا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ایک قانونی درخواست تیار کی جارہی ہے جس میں حجاب پالیسی کے خلاف شکایت موجود ہے۔

 

مسلم خاتون وکیل کا کہنا تھا کہ امریکی فیڈرل قوانین کے مطابق شناختی ڈکومنٹس میں حجاب کے ساتھ تصویر کی اجازت موجود ہے۔

 

اسی حوالے سے پولیس سربراہ ڈنیس امی کا کہنا تھا کہ مسلمان وکیل خاتون سے درخواست کی گیی تھی کہ وہ پولیس مرکز میں فوٹو سیشن کے دوران حجاب ہٹا دے جبکہ انہوں نے خواتین قیدیوں کے حوالے سے شکایت درج کی ہے۔

 

پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ خاتون کو جعلی نمبر پلیٹ استعمال کرنے پر گرفتار کی گیی ہے تاہم ایمی ڈوکوری کا کہنا ہے کہ انکا نمبر پلیٹ بالکل اوریجنل ہے۔/

 

3998892

 

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: