
سوشل میڈیا ذرائع کے مطابق عراق میں تعینات پاکستانی سفیر نے وزارت خارجہ کو متنبہ کیا ہے کہ زائرین کے خلاف اسد عمر کے اقدامات سے پاکستان اور عراق کے بہترہوتے تعلقات پرمنفی اثر پڑ سکتا ہے ۔
اس وقت جبکہ قومی سلامتی کے ادارے عراق سے تعلقات کی بہتری کیلئےکوشاں ہیں اور عراق پاکستان سے بڑے پیمانے پر جنگی اسلحہ خرید رہا ہے تو اس طرح کے منفی اقدامات دونوں بردار ملکوں کے تعلقات کو شدید متاثر کرسکتے ہیں۔
اطلاعات ہیں کہ عراق میں تعینات پاکستانی سفیر کی اسد عمر اور این سی او سی حکام سے اس مسئلہ پرشدید جھڑپ بھی ہوئی ہے ۔
وفاقی حکومت نے منصوبہ تشکیل دیا ہے کہ زائرین کو ریپڈ ٹیسٹ منفی آنے کےباوجود مثبت کی رپورٹ دی جائے گی تاکہ زائرین امام حسینؑ کو 14 یا اس سے بھی زائد دنوں کیلئے بدترین سہولیات کا شکار حکومتی ہسپتالوں میں رکھ کر نشان عبرت بنایا جاسکے۔
مختلف ائیرپورٹس پر زائرین کو تنگ کرنے کے خلاف پاکستانی کی مختلف شیعہ تنظیموں اور علما نے خبردار کیا ہے کہ اس رویے کے خلاف سخت ترین قدم اٹھایا جاسکتا ہے لہذا حکومت ہوش کے ناخن لے۔