
ڈان نیوز کے مطابق وزیر اعظم نے ترک نشریاتی ادارے 'ٹی آر ٹی ورلڈ' کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ اب افغانستان کا مسئلہ لٹکنا دراصل انسانی بحران کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ افغان حکومت اپنے بجٹ کے لیے 75 فیصد تک بیرونی امداد پر انحصار کرتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ افغان عوام کو خطرہ ہے کہ طالبان کے بعد بیرونی امداد کا سلسلہ ختم ہوجائے گا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ طویل مدت کے لیے تو شاید طالبان اپنے پاؤں پر کھڑے ہوجائیں گے لیکن اگر انہیں فوری طور پر امداد فراہم نہیں کی گئی تو خطرہ ہے کہ وہاں تشکیل پانے والی عبوری حکومت گر جائے گی جس کے نتیجے میں افراتفری پیدا ہوگی اور انسانی بحران جنم لے گا۔
طالبان کی عبوری حکومت کو تسلیم کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ ہماری افغانستان کے تمام پڑوسی ممالک سے مشاورت جاری ہے کہ ان کی حکومت کو کب تسلیم کیا جائے؟
انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان نے تنہا طالبان کو قبول کیا تو اس سے زیادہ فرق نہیں پڑے گا اس لیے ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ امریکا، یورپ، چین اور روس بھی ان کی حکومت کو تسلیم کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم سب مل کر ایک مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دیتے ہیں تو اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
دوران انٹرویو وزیر اعظم عمران خان نے سوال اٹھایا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ امریکا طالبان کی حکومت کو کب تسلیم کرے گا؟
انہوں نے کہا کہ جلد یا بدیر امریکا کو طالبان کی حکومت تسلیم کرنی ہوگی، ان کے سینیٹ میں جو سماعت ہوئی، ان کے میڈیا میں دیکھیں، امریکا صدمے اور تذبذب کا شکار ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ امریکا 20 سال کے بعد طالبان کی حکومت کے آنے سے شدید حیرت کا شکار ہے اور اب وہ قربانی کا بکرا ڈھونڈ رہا ہے جبکہ امریکی صدر جو بائیڈن کو تنقید کا نشانہ بنانا افسوس کی بات ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جو بائیڈن کیا کرسکتے تھے، انخلا کی تاریخ جب بھی دی گئی ہوتی ایسا ہی ہوتا جیسا آپ نے سقوطِ کابل میں دیکھا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اب قربانی کا بکرا تلاش کر رہا ہے اور بدقسمتی سے پاکستان ان میں سے ایک ہے، واشنگٹن منطقی ذہنیت سے نہیں سوچ رہا کہ آگے کیسے بڑھنا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ اگر امریکا، افغانستان کے اثاثے غیر منجمد نہیں کرتا اور افغان حکومت گر جاتی ہے تو نتائج انتہائی سنگین ہوں گے، اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں آئندہ برس تک عوام 90 فیصد غربت کی لکیر سے نیچے چلے جائیں گے اس لیے امریکا کو مسئلے کا حل تلاش کرنا ہوگا۔