
رپورٹ کے مطابق ایک پارٹی کی ویب سائٹ پر رسمی طور پر کہا گیا ہے کہ اسلام ایک آئیڈیالوجی کی طرح ثقافتی، سیاسی اور اجتماعی میدان میں تمام شعبہ ہائے زندگی کو کنٹرول کررہا ہے جو یہاں کی اقدار کی منافی ہے۔
مذکورہ شہری نے انتخاباتی مہم میں اس طرح کی نفرت انگیزی کی مذمت کی ہے اور اس کو انسانی توہین قرار دیا ہے جس نے کبک میں مسلمانوں کی زندگی کو نشانہ بنایا ہے۔
شکایت میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ پارٹی نے اسلام کو کینسر سے تشبیہ دی ہے جس کا مقصد کبک کے مسلمانوں کو رد اور نظر انداز کرنا ہے اور اس سے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں لہذا زمہ دارحکام کو اس کا نوٹس لینا چاہیے اور اس چیز کی روک تھام کے لیے اقدام کرنا ہوگا۔
مذکورہ پارٹی نے تاکید کی ہے کہ کبک کے لوگ اس شہر کو اسلامی بنانے کی کوششوں کو رد کرتے ہیں اور اس حوالے سے انکا عزم ہے کہ اسلامایزیشن کی کوششوں کو کسی طرح کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔/