
ایکنا نیوز نے عربی 21 نیوز کے حوالے سے رپورٹ میں کہا ہے کہ نماز جمعہ سے مسلمانوں کو روکنے پر انڈین حکومت کی جانب سے متعدد شدت پسند ہندوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ گذشتہ کئی ہفتوں سے دھلی کے مضافاتی علاقے گورگاوں میں ہندو شدت پسند مسلمانوں کو نماز جمعہ سے زبردستی روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔
زرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے جمعہ کو بھاری نفری تعینات کی تھی اور مسلمانوں کے خلاف نعرے بازی کرنے والے تیس شدت پسندوں کو گرفتار کرلیا ہے۔
بھارتی جنتا پارٹی کے منتقدین کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے حقوق کو پامال کیا جاتا ہے۔ تاہم مودی سرکار ان الزمات کو ماننے پر تیار نہیں اور دعوی کیا جاتا ہے کہ سب کو برابر کے حقوق حاصل ہیں۔
دیگر علاقوں میں ٹریپورا میں مسلمانوں کے گھروں اور دکانوں کے علاوہ مساجد کو نذر آتش کرنے کی اطلاعات ہیں۔
مسلمانوں کے املاک کو آگ لگانے کے بعد سے حالات کشیدہ ہیں اور کشیدگی کے پیش نظر پانچ سے زاید افراد کے اجتماع پر پابندی عاید کردی گیی ہے۔
۲۶ اکتوبر کو ہندو پریشاد کونسل کے مظاہروں کے بعد جسمیں مسلمانوں کے خلاف جذباتی تقاریر کیے گیے حالات کشیدہ ہوگیے تھے۔
۲۷ اکتوبر کو انسانی حقوق کی تنظیم کی انجمن کے بیان میں کہا گیا کہ ٹریپور میں کم از کم سولہ مساجد کو نذرآتش کیا گیا ہے۔/