
اسپوٹنیک نیوز کے مطابق تری پورہ میں حالیہ تشدد بھی ایک شدت پسند ہندو اجتماع کے بعد شروع ہوا تھا۔
حملوں میں چار مساجد کو شہید کیا گیا اور بہت سے مسلم املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا اور رپورٹ کے مطابق یہ حملے بنگلہ دیش میں ہندو مسلم فسادات کے بعد شروع ہوا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بعض لوگ دوسروں کو اس طرح کے اقدامات کے لیے گمراہ کن تصاویر سوشل میڈیا پر وایرل کررہے ہیں۔
ایک اعلی پولیس افیسر کا کہنا ہے کہ بعض صارفین کو تلاش کرلیا گیا ہے جو تری پورہ سے تعلق نہیں رکھتے اور ان افراد کوگرفتار کرنے کےلیے اقدامات شروع کردیے گیے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک سو پوسٹوں کو جرم قرار دیا گیا ہے اور ان کو وایرل کرنے والوں کی تلاش جاری ہے۔
اس وقت اس ریاست میں مساجد کی کڑی نگرانی جاری ہے اور چار سے زاید افراد کے اجتماع پر پابندی لگائی گیی ہے، تری پورہ میں حاکم اور مودی پارٹی کی حکومت ہے۔
مسلم رہنماوں کا کہنا ہے کہ جب سے مودی کی حکومت برسراقتدار آئی ہے مسلمانوں پر حملوں میں کافی اضافہ ہوا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلم سیکورٹی کے لیے حکومت کی جانب سے اب تک کوئی قابل ذکر اقدام نہیں کیا گیا ہے۔/