
فرنچ پریس کے مطابق امریکی عدالت عالیہ نے فیڈرل پولیس کی جانب سے مسجد کی جاسوسی کرنے کی شکایت پر اس کیس کو سماعت کے لیے قبول کرلیا۔
لاس انجلس مسجد کے امام اور دو دیگر افراد نے پولیس کی جانب سے مسجد کی جاسوسی کے خلاف عدالت میں شکایت کی تھی اور اس حوالے سے عدالت نے کیس کو سماعت کے لیے قبول کرنے کا کہا ہے۔
تین مذکورہ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ سال ۲۰۰۱ کے بعد ایف بی آئی مسلمان انکی جاسوسی کررہی ہے اور صرف مسلمان ہونا ان کا جرم ہے۔
فیڈرل پولیس پر الزام لگایا گیا ہے کہ سال ۲۰۰۷ کے بعد سے انہوں نے جاسوس مسجد میں بھیجنا شروع کیا بعض لوگوں پر دباو سے انکو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا۔
امریکی وزارت انصاف نے کہا ہے کہ تمام مقامات کی نگرانی کی جاتی ہے اور صرف مسلمانوں کو نشانہ نہیں بنایا جارہا، تاہم ناین الیون کے بعد مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرایم میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
سات سال قبل کریگ مونٹیل جو فرضی نام «فاروق العزیز» کے نام سے کام کررہا تھا انہوں نے انکشاف کیا: «ایف بی آئی نے مجھے مامور کیا کہ مسجد میں جاکر مسلمانوں کی اطلاعات جمع کروں.
شامی و فرنچ نژاد شخص جو مساجد میں رفت و آمد کیا کرتے تھے اس بہانے وہاں جاتے کہ میں اسلام کو جانا چاہتا ہوں۔
مونٹیل کا کہنا تھا کہ وہ جان بوجھ مسلمانوں کو جہاد بارے بات کرنے پر مجبور کرتا اور پھر انکی آواز ریکارڈ کرکے آگے بھیجتا۔
ایف بی آئی کا یہ ایجنٹ کہتا ہے کہ انہوں نے مجھے بیسک اسلامی دروس سے آگاہ کیا تاکہ میں مسلم کیمونٹی میں اندر جاسکوں اور میں نے ان سے کہا کہ مجھے کسی اچھی بیوی کی تلاش ہے حالانکہ میں شادی شدہ تھا۔/