ٹی ٹی پی کو عام معافی دینے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، معید یوسف

IQNA

ٹی ٹی پی کو عام معافی دینے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، معید یوسف

11:07 - November 11, 2021
خبر کا کوڈ: 3510624
پاکستان کی افغان طالبان پر زیادہ نہیں چلتی، ٹی ٹی پی کو عام معافی دینے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور اس وقت ٹی ٹی پی کو وہ حمایت حاصل نہیں ہے جو انہیں سابقہ افغان حکومت اور بھارت فراہم کرتے تھے۔

ڈان نیوز پروگرام ’لائیو ود عادل شاہ زیب‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے معید یوسف نے کہا کہ پچھلے 10 سے 15 سال کے دوران تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی) کو پذیرائی ملی جس میں افغان انٹیلی جنس بھی حصہ ڈالتی رہی، ہم دنیا کو بتاتے رہے کہ پاکستانی طالبان پہلے یہ موجود تھے لیکن ہمارے آپریشنز کے بعد وہ افغانستان چلے گئے، وہاں ان کو پناہ گاہیں دی گئیں جہاں سے وہ پاکستانیوں کو شہید کرتے رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں طالبان حکومت آنے سے پہلے بھی ہم افغان حکومت کو کہتے تھے کہ ان کو حملوں کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور ہم فوجی آپریشن سے پہلے اور ضرب عضب کے بعد بھی بات ہوئی لیکن کسی معاہدے پر عملدرآمد نہیں ہوا۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی کو عام معافی دینے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، پتہ نہیں یہ بات کہاں سے شروع ہوئی ہے، ابھی تو بات ہو گی، پھر پتہ چلے گا کہ وہ کہاں کھڑے ہیں اور اس حوالے سے کتنے سنجیدہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ٹی ٹی پی کو وہ حمایت حاصل نہیں ہے جو انہیں سابقہ افغان حکومت اور بھارت فراہم کرتے تھے، ابھی ٹی ٹی پی سے کوئی بات نہیں ہوئی، ہمیں معلوم ہے کہ ماضی میں معاہدوں پر عمل نہیں ہوا لیکن اگر وہ ریاست کی رٹ اور سیز فائر پر تیار ہیں تو بات ہو سکتی ہے، یہ ریاست کا کام ہوتا ہے۔

معید یوسف نے کہا کہ کمیٹی کی بریفنگ میں قائد حزب اختلاف اور پیپلز پارٹی سمیت تمام پارٹیوں کے نمائندے وہاں موجود تھے، یہ شفاف بریفنگ تھی۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے تمام بڑے تنازعات کا اختتام مذاکرات پر ہوتا ہے، جو بھی مذاکرات کرتا ہے تو دوسرے فریق نے اس کے بندے مارے یا شہید کیے ہوتے ہیں، اگر آپ یہ موقف اپنا لیں تو پھر کوئی بات نہیں ہو سکتی اور آپ کو آخر تک لڑنا پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی سے مذاکرات کی شرائط متاثرہ افراد اور پورے پاکستان کے اتفاق رائے سے طے کی جائیں گی، جو بھی بات ہو گی وہ آئین کے مطابق ہو گی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر کوئی گروپ تشدد سے ہمیشہ کے لیے لاتعلقی کا اعلان کرتا ہے اور پاکستان کی آئینی حدود میں رہتا ہوا زندگی گزارنا چاہتا ہے اور عدالت کی جانب سے دی گئی سزا کو پوری کرتا ہے تو وہ اپنی زندگی عام آدمی کی حیثیت سے گزار سکتا ہے۔

تحریک لبیک کے بھارت سے رابطوں کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہاکہ افراتفری پھیلانے کے لیے جتنے بھی ٹرینڈ چل رہے تھے وہ بھارت سے چلائے جا رہے تھے، کیا بھارت نے خود سے ہی ان لوگوں کی سپورٹ میں ٹرینڈ چلانے شروع کردیے اور میں پورے وثوق سے کہہ رہا ہوں کہ انہیں بیرونی سپورٹ حاصل ہے۔

انہوں نے ٹی ایل پی سے معاہدے کو خفیہ رکھنے کی وجہ میڈیا کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب میڈیا کی اتنی زیادہ گفتگو پالیسی پر اثرانداز ہونے لگ جائے، جب سنسنی خیزی پالیسی امور سے آگے نکل جائے تو ریاست کو بہت محتاط رہنا پڑتا ہے۔

معید یوسف نے کہا کہ ٹی ٹی پی اور ٹی ایل پی سمیت تمام امور پر وزیر اعظم کو صورتحال سے باخبر رکھا جاتا ہے، ہر فیصلہ وزیر اعظم خود کرتے ہیں۔

 

نظرات بینندگان
captcha