
ڈان نیوز کے مطابق ترجمان دفترخارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے، افغانستان کی عبوری حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے درمیان وزارت خارجہ میں وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔
دفترخارجہ کے مطابق شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان، افغانستان میں امن و استحکام کا خواہاں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان، قریبی ہمسایہ ہونے کے ناطے افغانستان میں گزشتہ 40 سال سے جاری جنگ و جدل اور بدامنی سے شدید متاثر ہوا ہے۔
وزیرخارجہ نے کہا کہ پاکستان، گزشتہ چار دہائیوں سے 30 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کرتا آ رہا ہے، افغانستان کو معاشی و انسانی بحران سے نکالنے کےلیے، پاکستان مسلسل عالمی برادری سے فوری امداد اور مثبت کردار کا تقاضا کر رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان محدود وسائل کے باوجود افغان بھائیوں کی انسانی معاونت، ادویات اور خوراک کی فراہمی کے لیے حتی الامکان کاوشیں بروئے کار لانے کے لیے پر عزم ہے۔
افغانستان کے عبوری وزیرخارجہ اور وفد کو اس نازک موڑ پر افغانستان کے اندر اور باہر امن مخالف عناصر پر کڑی نظر رکھنے کی تاکید بھی کی۔
ترجمان دفترخارجہ کے بیان میں کہاگیا کہ وزیر خارجہ نے افغان وفد کو ‘ٹرائیکا پلس’ اجلاس میں شریک روس، چین اور امریکی نمائندگان خصوصی برائے افغانستان کے ساتھ ہونے والی ملاقات اور گفت و شنید کے بارے میں مطلع کیا۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے اگلے اجلاس میں افغانستان کی عبوری حکومت کے نمائندگان کو بھی مدعو کیا جائے۔
