
(ہندوستان اردو ٹائمز) ہریانہ کے گڑگائوں میں ہر جمعہ کو ہندو تنظیمیں کھلے عام نماز کے خلاف احتجاج کرتی ہیں۔ کبھی وہ مذہبی نعرے لگاتی ہیں اور کبھی نماز کی جگہ پر گائے کے گوبرڈالتی ہیں۔ اس کے پیش نظر گروگرام کے مقامی ہندو جمعہ کی نماز کے لیے اپنی جگہ دے رہے ہیں، جب کہ سکھ کہہ رہے ہیں کہ مسلمان گرودوارہ آکر نماز پڑھیں۔ گروگرام گرودوارہ پربندھک کمیٹی کے سربراہ شیردل سدھو نے مفتی سلیم کو گروگرام صدر بازار کا گرودوارہ دکھایا۔ اس جمعہ کو اس گرودوارہ میں گرووانی کے ساتھ اذان ہوگی اور جمعہ کی نماز ادا کی جائے۔
سدھو کاکہنا ہے کہ اس بار جمعہ کے دن اگر مسلمانوں کی ہندوتنظیمیں کھلے عام نماز کے خلاف احتجاج کریں تو مسلمان بھائیوں کو گرودوارہ آکر نماز ادا کرنی چاہیے۔ شیردل سدھو کہتے ہیں کہ ہم ملک کو بچا رہے ہیں۔ گرودوارہ سب کے لیے کھلا ہے۔ ایک مسلمان بھائی بھی گرو نانک کے ساتھ رہتا تھا۔ مسلمان بھائیوں نے بھی ملک کے لیے جانیں دی ہیں۔ گڑگائوں کے سیکٹر 12 کے اکشے یادو نے جمعہ کی نماز پڑھنے کے لیے اپنی 100 گز کی دکان مسلم کمیونٹی کو دی ہے۔
اکشے کاکہنا ہے کہ کسی بھی حالت میں گڑگائوں کو نہیں توڑا جائے گا۔ اگر مسلمان چاہیں تو اپنے گھر کے صحن میں بھی آکر نماز پڑھ سکتے ہیں۔ اکشے نے کہاہے کہ میں 40 سال سے گڑگاؤں میں ہوں، یہاں پیدا ہوا، میں اسے ٹوٹنے نہیں دوں گا۔ مجھ جیسے بہت سے لوگ ہیں جو نماز کے لیے اپنی جگہ دینے کو تیارہیں۔