
ایکنا نیوز کے مطابق سیمینار سے علامہ محمد افضل حیدری، علامہ حافظ کاظم رضا نقوی، سابق وفاقی وزیر تعلیم سید منیر گیلانی، سید نثار علی ترمذی، انجم رضا عابدی، آئی ایس او پاکستان کے مرکزی صدر زاہد مہدی، افسر رضا خان، احمد رضا خان سمیت دیگر رہنماوں اور عمائدین نے شرکت کی۔
مقررین علامہ سید صفدر حسین نجفی کی ملی خدمات اور قرآنیات کے فروغ میں ان کی کاوشوں کو سراہا۔
مقررین نے کہا کہ پاکستان میں دینی مدارس کا قیام علامہ صفدر حسین نجفی کا کارنامہ ہے جبکہ قوم کو سنے سنائے دین کی بجائے فکری و نظریاتی دین کی طرف بھی انہوں نے ہی راغب کیا اور پاکستان میں کتاب بینی کو فروغ دیا۔

مقررین کے مطابق علامہ سید صفدر حسین نجفی نے روایتی طور پر رائج روش یعنی سنے سنائے دین کو مسترد کیا اور لوگوں میں کتب بینی کو رواج دیا۔ جس کیلئے آپ نے بزرگوں اور مستند علماء کی کتابیں "عقائد، تاریخ، فقہ، سیرت آئمہ اہلبیت علیہم السلام " غرضیکہ ہر شعبے کیلئے ہر ضروری کتاب کو متعارف کراویا اور ان تمام کتب کے خود تراجم کیے، تاکہ لوگوں میں خصوصاً جوان نسل میں کتب بینی کا شوق پیدا ہو، جس کے نتیجے میں سوچ و فکر میں پختگی ہو۔ ان تمام کامیاب کاوشوں میں ایک اہم کاوش اسلام کے سیاسی اور آفاقی چہرے کو پاکستان میں متعارف کروایا اور عالمی استعمار کی سازشوں کو بے نقاب کیا.