
اسپوٹنک نیوز کے مطابق اسلام مخالف فرنچ سیاست داں مارین لوپن نے ٹوئٹر پر لکھا ہے: گذشتہ روز الجزایری لوگوں نے سب کچھ توڑ دیا اور اپنی ٹیم کی فتح کے خوشی میں شانزلیزہ کے سڑکوں پر سیکورٹی والوں پر حملہ کیا، چار مہینے موج اڑاو پھر سب کچھ ختم ہوگا، اچھی طرح جان لو!
دائیں بازو کی شدت پسند پارٹی کے رہنما نے فرنچ صدارتی انتخابات جو مارچ میں ہونا ہے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کے بعد اس نرم ماحول کا خاتمہ ہوگا۔
فرنچ صدارتی انتخابات آئندہ سال منعقد ہوگا اور میکرون کے مقابلے میں مارین لوپن کا سخت مقابلہ متوقع ہے اور کہا جاتا ہے کہ انکی جیت کے امکانات روشن ہے۔
سروے سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے مرحلے میں دیگر امیدوار حذف ہوں گے اور میکرون و لوپن کے درمیان مقابلہ دوسرے مرحلے میں ہوگا۔
مہاجر اور مسلم مخالف لوپن فرانس میں شدت پسندی کے حوالے سے جانا جاتا ہے اور اسی طرح اریک زمور جنکو فرانس کا ٹرمپ بھی کہا جاتا ہے اس الیکشن میں صدارتی امیدوار ہے۔
بہت سے تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کے شدت پسند اور نسل پرست رہنماوں کا سامنے آنا مسلم اقلیت کے لیے فرانس میں خطرے کی گھنٹی ہے جہاں یورپی ممالک میں یہاں پر سب سے بڑی مسلم ابادی موجود ہے۔/