
ایکنا نیوز کی رپورٹ کے مطابق معاشرتی بے راہ روی کے خلاف اتوار کے روز علمدار روڈ کے علاقے میں ایک بڑی ریلی نکالی گئی جس کے شرکا نے مسجد خاتم الانبیا سے شہدا چوک تک مارچ کیا۔
ریلی کے شرکا نے ویڈیو سکینڈل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے پر غیر جانبدار تحقیقات کرائی جائے تاکہ تمام ملزمان کیفر کردار تک پہنچ جائیں۔
ریلی میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ اس اسکینڈل نے ہمارے ملک کو ہلا دیا اور بلوچستان میں اس سے پہلے کبھی بھی ایسا نہیں ہوا، اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ اس سکینڈل میں ملوث تمام افراد کا سراغ لگایا جائے اور ان کو قرار واقعی سزا دی دلائی جائے۔‘
علما اور دیگر مقررین نے خطاب میں واضح کیا کہ اس بے راہ روی کی اجازت نہیں دی جائے اور ریاست فوری طور پر تمام ملوث افراد کے خلاف سخت ترین کارروائی کے لیے اقدام کریں۔
گذشتہ روز بھی پریس کلب کوئٹہ کے باہر سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والی تنظیموں کے کارکنوں نے ویڈیو سکینڈل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔
مشیر برائے داخلہ میر ضیا اللہ نے اس سلسلے میں ایک اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان اور حکومت مسلسل اس کوشش میں لگی ہوئی ہے کہ انسانیت کی تذلیل کرنے والے درندوں کو کیفرکردار تک پہنچا کر اپنے انسان ہونے کا فرض ادا کیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ ایسے درندہ صفت افراد کو کسی بھی صورت میں معاف نہیں کیا جائے گا اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کا شک نہیں ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس اس سلسلے میں جو تحقیق کر رہی ہے، اس سے حکومت مطمئن ہے اور پولیس بہتر انداز سے کام کر رہی ہے۔ ’پولیس کو کہا گیا ہے کہ وہ کسی بھی دباﺅ کو قبول نہیں کریں اور تحقیقات کو صحیح سمت میں آگے بڑھائیں۔‘

وزیر داخلہ نے بتایا کہ دو نامزد ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ تیسرے ملزم کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
