IQNA

15:28 - December 25, 2021
خبر کا کوڈ: 3510945
ہندو مذہب اپنانے والے وسیم رضوی پر بھارت میں مسلمانوں کو جان سے مارنے کیلئے پارٹی ارکان کو اکسانے کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا گیا

ڈیلی پاکستان نیوز کا کہنا ہے کہ پولیس نے کہا ہے کہ جتیندر نارائن اور  دیگر نامعلوم  افراد کے خلاف مذہبی گروہوں کے درمیان نفرت کو فروغ دینےکے الزام کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

 برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق بھارت کی شمالی ریاست اتراکھنڈ میں ہندو رہنماؤں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر سامنے آنے کے بعد  پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔دوسری جانب  سوشل میڈیا صارفین نےنفرت انگیز تقاریرکی ویڈیوز میں بہت سے مقررین کی شناخت کی ہے جو اہم مذہبی رہنما  ہیں جن میں اکثر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے وزرا اور اراکین کے قریبی دوست ہیں۔ سوشل میڈیا پر بہت سے صارفین  نے یہ  سوال  بھی کیا ہے کہ پولیس نے  جتیندر نارائن کے علاوہ کسی بھی مقرر کے خلاف مقدمہ کیوں درج نہیں کیا؟جس کا جواب دیتے ہوئے سینیئر پولیس اہلکار اشوک کمار کاکہنا تھا کہ یہ مقدمہ ایک مقامی رہائشی کی شکایت موصول ہونے کے بعد درج کیا گیا ،جس میں صرف جتیندر نارائن کا نام لیا گیا اور کہا گیا کہ وہ دیگر افراد کی شناخت نہیں کر سکے۔

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: