
العھد نیوز کے مطابق عصائب اهل الحق نے عدالتی فیصلے پر ردعمل میں کہا ہے: ہم عدالتوں کے استقلال کا احترام کرتے ہیں مگر اس قدر وسیع پیمانے پر شواہد و دلائل کے ہوتے ہوئے درخواست رد کرنے پر افسوس کا اظھار کرتے ہیں۔
صدر تحریک کے مقتدی صدر نے عدالت، الیکشن کمیشن اور اقوام متحدہ کے نمایندے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جیت پر جشن منانے کا حق بنتا ہے۔
نصر الاینس نے بھی عدالتی حکم کو تسلیم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ باوجود اس کے کہ الیکشن مراحل اور پروسیس میں ہمارے ساتھ بہت بڑی نا انصافی ہوئی ہے ہم اس عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔
قوی الدولہ الاینس کے عمار الحکیم نے اگلی حکومت میں شامل نہ ہونے پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔
انکا کہنا تھا کہ امید ہے کہ اگلی حکومت تمام پارٹیوں کی نمایندہ حکومت ہوگی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے وہ سنجیدگی سے کام کرے گی اور میں انکو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
الفتح الاینس کے هادی العامری نے کہا ہے: ملکی امور اور سیاسی پروسیس کو دیکھتے ہوئے باوجود اس کے بہت سے مراحل میں جعل بازی کی گیی ہے ہم جمہوری عمل کے احترام میں قانون کی پاسداری پر عمل پیرا ہوں گے۔
دولہ القانون الاینس کے نوری المالکی نے عدالتی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے افراد کا حق اس الیکشن میں پامال ہوا اور انکے ساتھ نا انصافی ہوئی، انکا کہنا تھا: «توقع کی جارہی تھی کہ اس قدر واضح دلائل اور شواہد کے ہوتے ہوئے اس انتخابات کے نتایج کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا جاتا، تاہم امید ایسا نہیں ہوا».