باطل قوتوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنادینے کیلئے مسلکی ہم آہنگی ضروری

IQNA

باطل قوتوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنادینے کیلئے مسلکی ہم آہنگی ضروری

15:30 - January 03, 2022
خبر کا کوڈ: 3511029
تہران ایکنا: میڈیا پلس میں قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس کی یادمیں سمینار۔ حامد محمد خان، حجة الاسلام سبیع مختار اور جعفر حسین کا خطاب

صدائے حسینی نیوز کے مطابق امیرجماعت اسلامی تلنگانہ مولانا حامد محمد خان نے اس بات کی ضرورت ظاہر کی کہ ہم بلالحاظ مسلک متحد ہوجائیں اور مسلکی ہم آہنگی کو یقینی بنائیں تاکہ امریکہ اور اسرائیل جیسی باطل قوتوں کے ناپاک عزائم کا مل جل کر سامنا کرسکیں اور ان کو ناکام بناسکیں۔ مولانا حامد محمد خان آج سفیر فائونڈیشن اور طرفداران مظلوم کے زیر اہتمام شہید قاسم سلیمانی اور شہید ابومہدی المہندس کی یاد میں میڈیا پلس آڈیٹوریم گن فائونڈری پر ایک سمینار سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے۔ امریکہ نے دوسال قبل ہزاروں کیلومیٹر دور سے عراق ایرپورٹ پربزدلانہ ڈرون حملہ کرتے ہوئے ان دونوں مجاہدین کو شہید کردیا تھا۔ کیوں کہ وہ میدانِ جنگ میں ان کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ قاسم سلیمانی جو القدس کے جنرل تھے’ اور ابومہدی المہندس نے جن کا ایران و عراق سے تعلق تھا’ اور جو عراق میں ملے تھے ان کی جانب سے ایران میں القدس اور عراق میں محاذی فوج مشہدِ شہابی کا قیام عمل میں لایا تھا۔ کیوں کہ ان کا یہ ایقان تھا کہ سرکاری فوج کے سپاہی تنخواہ یاب ہوتے ہیں وہ ہوسکتا ہے کہ دشمن کا صحیح طور پر مقابلہ نہیں کرسکیںگے۔ لہٰذا فوج کے محاذی ایک فوج ہونی چاہئے۔ لہٰذا انہوں نے حشد شعبی میں ایسے افراد کو شامل کیا تھا جو باطل قوتوں کا پوری قوت کے ساتھ سامنا کرنے اور جام شہادت نوش فرمانے کا جذبہ رکھتے تھے۔

حجة الاسلام عسکری خان نے بتایا کہ کربلا کا میدان ایک انقلابی درس گاہ ہے اور شہید قاسم سلیمانی اور شہید ابومہدی المہندس نے اسی درس گاہ سے حاصل کیا تھا اور باطل قوتوں کا سامنا کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں اپنی زندگیوں کو قربان کردیا اور شہید ہوگئے۔ حجة الاسلام سبیع مختار نے کہا کہ امریکہ نے قاسم سلیمانی اور ابومہدی المہندس کو ہزاروں کیلو میٹر دور سے ڈرون حملہ کے ذریعہ نشانہ بناکر شہید کیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ بزدل ہے اور یہ دونوں مجاہدین بہادر تھے۔ انہوں نے ان دونوں شہداء کے لئے دعا بھی کی۔

صدر صوفی علماء کونسل حکیم صوفی سید شاہ خیرالدین صدیقی نے دونوں شہداء کی حیات و کارناموں کو سب کے لئے مشعل راہ قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد کا ایران و عراق سے روحانی رشتہ ہے اور ان ممالک سے کئی اولیائے کرام حیدرآباد آئے ہیں۔ حلقہ اسمبلی بہادرپورہ کے ٹی آر ایس انچارج اور سٹ ون کے سابق صدر نشین میر عنایت علی باقری نے کہا کہ قاسم سلیمانی اور ابومہدی المہندس کو امریکہ و اسرائیل نے ڈرون حملہ کے ذریعہ شہید کیا اور اس کے خلاف یہ احتجاجی جلسہ منعقد کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ موصل کے قریب سے جن 40ہندوستانی نرسس کو داعش کے حملہ سے بچاکر ہندوستان لایا گیا ان میں یہ دونوں مجاہدین بھی شامل تھے۔

ایڈیٹر صدائے حسینی جعفر حسین نے کہا کہ شہید قاسم سلیمانی اور شہید ابومہدی المہندس نے 40ہندوستانی نرسس کو داعش کے حملہ سے بچاکر بحفاظت ہندوستان لاکر ہمارے ملک پر احسان عظیم کیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ حکومت ہند بھی ان دونوں مجاہدین کی یاد میں جلسہ کا انعقاد عمل میں لاتی اور انہیں خراج پیش کیا جاتا مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ ہم اِن دونوں شہداء کی یاد میں جلسہ منعقد کررہے ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے اس بات کی شدید مذمت کی کہ نریندر مودی کے وزارت عظمیٰ پر فائز ہونے کے بعد بابائے قوم گاندھی جی کی اہانت کی جارہی ہے اور ان کے قاتل ناتھورام گوڈسے کی عظمت بیان کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں گاندھی جی کی عظمت کے تحفظ کے لئے تحریک شروع کرنے کی چاہئے اور ان کو خراج پیش کرنے کے لئے سلسلہ وار جلسوں کا انعقاد عمل میں لانا چاہئے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ گاندھی جی ہی تھے جنہوں نے ہمارے مادرِ وطن ہندوستان کو آزاد کرایا تھا اور ہم ہندوستانی آزادی کی فضاء میں سانس لے رہے ہیں اور زندگی بسر کررہے ہیں۔ مولانا علی مرتضیٰ، مولانا سید شبیر عابدی (شائد)، مسلم لیڈرس کانفرنس کے شعبہ خواتین کی کنوینر شیراز خان، سینئر صحافی علی طاہر اور صدر شیعہ یوتھ کانفرنس حامد حسین جعفری نے بھی مخاطب کیا۔ شاعر اہلبیت میر رضا علی رضا نے ان دونوں شہداء کو منظوم خراج عقیدت پیش کیا۔نظامت کے فرایض غلام پنجتن صاحب نے کیا مجتبیٰ حسین زیدی نے سفیر فائونڈیشن اور طرفدارن مظلوم کی جانب سے تمام کا شکریا ادا کیامجتبیٰ حسین زیدی کے شکریہ پر جلسہ کا اختتام عمل میں آیا۔

نظرات بینندگان
captcha