
ایکنا نیوز کی رپورٹ کے مطابق اگر آپ پیرس کی ثقافتی مرکز کی سیر کرنا چاہے تو آپ کو فرنچ دارالحکومت کی بلاک ۱۳ کی طرف جانا ہوگا جہاں دنیا کی ایک قدیم ترین قومی لاِیبریری موجود ہے۔
فرانس کی قومی لایبریری یا «کتابخانه فرانسوا میتران» جو لوور میوزیم کے نزدیک واقع ہے اس کے دروازے تمام عاشقان علم و ثقافت کے لیے کھلے ہیں، اس لایبریری میں ایسے کولیکشن موجود ہے جو دنیا کے بادشاہوں کی لایبریری میں بھی موجود نہیں جو صدر اسلام کے زمانے سے ہے۔
اس قومی لایبریری میں ہزاروں وسیع ہال موجود ہیں، لایبریری میں «تاریخی میڈلز، سکه و عتیقهجات»، «جغرافیایی اسناد»، «تاریخی مجسمے» اور «خطی نسخے» موجود ہیں۔
خطی نسخوں میں سال ۱۷۲۱ سے فن پارے موجود ہیں جہاں ۲۵۰ ہزار نسخے مختلف زبانوں میں موجود ہیں جن میں ۱۰ هزار نسخے صدر اسلام سے متعلق ہیں۔
قومی لایبریری میں فارسی کتب کا خصوصی شعبہ ہے جہاں فارسی کتب کے علاوہ عربی، ترکی، عبری، ہندی اور جاپانی زبانوں میں کتب موجود ہیں اور یہاں پر پانچ ہزار فارسی کتاب ادبیات، تاریخ، ادیان اور ایرانی ثقافت سے متعلق ہیں۔
فرانس کی قومی کتابخانے میں قدیم ترین اسلامی نایاب قلمی نسخے موجود ہیں جو مختلف ادوار میں جمع کیے گیے ہیں اور اس وقت یہاں پر بارہ سو نادر تاریخی قلمی نسخے موجود ہیں جنمیں قرآنی نسخے بھی شامل ہیں۔
Codex Paris-Metropolitan، کے نام سے ایک نسخہ موجود ہے جو ۹۸ صفحات پر مشتلمل ہے جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ ۷ ویں یا آٹھویں صدی سے متعلق ہے. اس نسخے کو چند دیگر قرآنی نسخوں کے ہمراہ مصر کے علاقے فسطات کی مسجد عمرو سے برآمد کیا گیا ہے۔
نپولین کے سفر جو اٹھارویں صدی میں ہوا اس میں فرنچ محقق ژان ژوزف مارسل نے کئی قرآنی اوراق خریداری کی اور ژان لوئیس نے چند سالوں بعد دیگر اوراق خریدے۔

تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نسخے کو خط حجازی اور شام میں لکھا گیا ہے۔
ذیل کی ویڈیو کلیپ میں اس نادر کتابخانے کے خطی نسخوں کے حصے کی نمایش کی گیی ہے: