
ایکنا نیوز کے مطابق الوفد کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال ۲۰۲۱ کو اس براعظم میں دہشت گردانہ واقعات میں کافی اضافہ ہوا ہے۔
گذشتہ عیسوی سال میں اس براعظم میں ۷۳۵ دہشت گردانہ واقعات رونما ہوچکے ہیں جنمیں دہشت گردانہ حملے، خودکش حملے اور ٹارگٹ کلنگ شامل ہیں۔
الازهر کی نگران تنظیم کے مطابق سال ۲۰۲۱ بدترین سال رہا ہے اور اس براعظم کو سنگین خطرات درپیش ہیں جہاں دہشت گردی کے ساتھ کورونا کی مشکلات بھی آن پڑی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کے واقعات کے حوالے سے الشباب سرگرم ترین تنظیم شمار کی جاتی ہے جنہوں نے سب سے زیادہ دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دی ہیں جب کہ بڑے حملوں میں تکفیری تنظیم بوکوحرام سرفہرست ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے: براعظم افریقہ میں بڑھتی دہشت گردی کی سرگرمیوں میں اہم ترین وجہ داعش تنظیم کی فعالیت ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے: سومالیہ کی غیراسٹیبل حالات کی وجہ سے الشباب کو پنپنے کا موقع ملا جس کو القاعدہ کی حمایت حاصل ہے اور اس تنظیم نے کوشش کی ہے کہ اس ملک میں اپنی تکفیری اور سیاسی سوچ اور عقیدے کی ترویج کرے۔
الازھر نگران تنظیم نے شدت پسندی سے مقابلے کے لیے تعلیم کو عام کرانے، روشن فکری کی ترویج، جوانوں کی رہنمائی اور بقائے باہمی و دوستی کو عام کرانے کی تاکید کی ہے۔/