
اناطولیہ نیوز کے مطابق امریکن مسلم کونسل نے بیان میں کہا ہے کہ بعض اسلام مخالف تنظیمیں سالوں سے امریکہ و اسرائیل کے لیے جاسوسی کررہی ہیں۔
مسلم کونسل کے دفتر کا ترجمان رومین اقبال کو گذشتہ مہینے کو اوهایو میں ایک تنظیم بنام «ٹروریزم ریسرچ پروجیکٹ (IPT)» جو اسلام مخالف تنظیم ہے اس کے لیے جاسوسی کے الزام میں کونسل سے نکال دیا گیا ۔
انکو اس تنظیم کے لیے جاسوسی کے الزام میں دو دیگر فرد کے ساتھ نکال دیا گیا۔
کونسل کے ایک اور رکن طارق نلسون ویرجینیا میں سال ۲۰۰۸ سے ۲۰۱۲ تک IPT کے لیے جاسوسی کرتا رہا ہے۔
نلسن نے اعتراف کیا کہ وہ IPT کو اسرائیل کے لیے اطلاعات منتقل کرتا رہا۔
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق طارق نلسن نے مسلم رکن کانگرس کیٹ الیسن کی جاسوسی کرتا رہا ہے جو اس وقت مینہ سوٹا میں چیف جسٹس کے فرائض انجام دیں رہے ہیں۔
طارق نلسن نے سال ۲۰۱۰ میں ایک اجتماع میں کیٹ الیسن کی تقریر ریکارڈ کی اور اس کو مذکورہ اسرائیل حامی تنظیم کو منتقل کیا۔
مذکورہ تنظیم اور دیگر فلسطین مخالف تنظیموں نے سال ۲۰۱۶ میں کوشش کی کہ الیسن کو ڈیموکریٹ قومی کمیٹی میں رکن بنانے سے روک سکے۔/