IQNA

7:52 - May 13, 2022
خبر کا کوڈ: 3511845
تہران ایکنا: مہاراشٹر میں لائوڈاسپیکر تنازع زوروں پر ہے۔ اس درمیان میرا-بھیندر وسئی-ویرار (ایم بی وی وی) پولیس نے اپنے کمشنری حلقہ کے تحت مذہبی مقامات کے لیے لائوڈاسپیکر سے متعلق 200 سے زائد لائسنس جاری کیے ہیں۔

روزنامہ سہارا کے مطابق مہاراشٹر میں لائوڈاسپیکر تنازع زوروں پر ہے۔ اس درمیان میرا-بھیندر وسئی-ویرار (ایم بی وی وی) پولیس نے اپنے کمشنری حلقہ کے تحت مذہبی مقامات کے لیے لائوڈاسپیکر سے متعلق 200 سے زائد لائسنس جاری کیے ہیں۔ مہاراشٹر کے ’ایم بی وی وی کمشنریٹ‘ کے دائرے میں تھانے سے لے کر پالگھر ضلع تک کا علاقہ آتا ہے۔ تھانے میں میرا-بھیندر ہے، تو پالگھر میں وسئی-ویرار موجود ہے۔ ایم بی وی وی کے عدالتی حلقہ میں مجموعی طور پر 999 مذہبی مقامات ہیں۔ ایک افسر نے بتایا کہ 722 مندروں میں سے 22 کو لائوڈاسپیکر کے لیے لائسنس دیا گیا ہے جب کہ 75 مسجدوں میں سے 64 کو لائسنس جاری ہوا ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ 202 میں سے 132 مدرسوں کو بھی لائوڈاسپیکر کی اجازت دی گئی ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پولیس نے مذہبی مقامات کو لائوڈاسپیکر کے لیے 218 لائسنس جاری کیے ہیں۔ افسر نے بتایا کہ سی آر پی سی کی دفعہ 149 کے تحت 105 لوگوں کو نوٹس بھی جاری کیے گئے ہیں۔ دوسری طرف مہاراشٹر کے ہندو اکثریتی ایک گائوں میں اتفاق رائے سے گائوں کی واحد مسجد سے لائوڈاسپیکر نہ ہٹانے کا قرارداد پاس کی گئی ہے۔ مقامی لوگوں نے کہا کہ اذان روز مرہ کے معمولات کا حصہ ہے اور گائوں میں کوئی بھی اس سے پریشان نہیں ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اذان دیہی عوام کے لیے زندگی کا ایک حصہ بن گیا ہے، جس کی بنیاد پر ہر کوئی اپنے معمولات کو پورا کرتا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ دھسلا-پیرواڑی مہاراشٹر کے مراٹھواڑا علاقہ واقع جالنا ضلع میں ایک گروپ گرام پنچایت ہے۔ اس کی آبادی تقریباً 2500 ہے۔ اس میں تقریباً 600 مسلم شامل ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 اپریل کو پنچایتی راج دیوس کے روز ایک جلسہ کا انعقاد ہوا، جہاں مقامی لوگوں نے اتفاق رائے سے مسجد سے لائوڈاسپیکر نہیں ہٹانے سے متعلق قرارداد پاس کی۔

 

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: