
اردو نیوز کے مطابق دہلی ہائی کورٹ کی تعطیلاتی بنچ نے قطب مینار کمپلیکس میں واقع مسجد میں نماز پڑھنے پر پابندی کے اے ایس آئی کے حکم کو چیلنج کرنے والی ایک عرضی پر جلد سماعت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
اس حوالے سے گزشتہ دنوں ایک وکیل نے قطب مینار کمپلیکس میں واقع مسجد میں نماز پڑھنے پر پابندی ہٹانے کے لیے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
قطب مینار احاطے میں واقع مسجد میں نماز پر پابندی کے اے ایس آئی کے فیصلے کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا جس میں ایک وکیل نے کہا تھا کہ یہ وقف بورڈ کی ملکیت ہے اور یہاں طویل عرصے سے نماز ادا کی جا رہی ہے۔ اس کے باوجود اچانک 15 مئی کو آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (ASI) نے وہاں نماز پڑھنے پر پابندی لگا دی۔
حالانکہ ہائی کورٹ نے اس وقت بھی اس درخواست کی فوری سماعت سے صاف انکار کر دیا تھا۔ دہلی ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ ہم آج سماعت کے لیے عرضی کو لسٹ نہیں کر سکتے۔ اگر آپ موسم گرما کی تعطیلات کے دوران سنا جانا چاہتے ہیں تو اپنے نکات رجسٹرار کے سامنے رکھیں۔ اس کے بعد یہ عرضی تعطیلاتی بنچ کے پاس پہنچی، لیکن عدالت نے اس پر جلد سماعت کرنے سے انکار کردیا۔
رپورٹ کے مطابق قطب مینار احاطے میں ہندو اور جین دیوتاؤں کی مورتیوں کی دوبارہ تنصیب کے مطالبے کے درمیان دہلی وقف بورڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہاں کے قطب مینار احاطے کی مسجد میں پہلے ہی نماز ادا کی جا تی رہی ہے، لیکن آثار قدیمہ سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) نے اسے روک دیا تھا۔ بورڈ نے اس مسجد میں نماز پڑھنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔