
ڈیلی منصف کے مطابق محکمہ فینانس نہ جانے کیوں مکہ مسجد اور شاہی مسجد باغ عامہ کے ائمہ و خطباء سمیت تمام ملازمین کی دہوں سے جاری خدمات کی مسلمہ حیثیت کو ختم کرنے کے درپے ہے‘ جس سے ایسا لگتا ہیکہ یہ دفتر شاہی فرقہ پرستی کا نتیجہ ہے۔
تازہ احکام میں محکمہ فینانس نے جی او آر ٹی نمبر 1042 مورخہ 24 /مئی 2022 جاری کرتے ہوئے یہ فرمان جاری کردیا کہ ان تمام 30 ملازمین کی خدمات کو ایک تیسری فریق ایجنسی کے ذریعہ انہی خدمات پر بحال رکھا جائے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ان ملازمین کی خدمات کو آوٹ سورس کرنے کی کوشش کی گئی تھی مگر سیاسی مداخلت کے بعد یہ ارادہ ترک کردیا تھا تاہم ان ملازمین کے لئے قواعد خدمات مرتب کرنے کی کارروائی شروع کی گئی تھی۔
ان ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کے لئے بھی حکومت پر مؤثر نمائندگی کی گئی تھی اور اس جانب محکمہ اقلیتی بہبود نے ابتدائی اقدامات بھی کئے تھے اور ان دو مساجد میں کام کرنے والے ملازمین کے لئے قواعد ملازمت مرتب کرتے ہوئے محکمہ اقلیتی بہبود کے توسط سے محکمہ فینانس کو روانہ کئے گئے تھے۔
اسی اثناء جب چیف منسٹر نے مختلف محکمہ جات میں زائد از 70 ہزار سرکاری ملازمتوں پر تقررات کا اعلان کیا تو ان میں محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت بھی زائد از 1,600 جائیدادوں کو پر کرنے کا بھی مژدہ سنایا گیا تھا۔ ان اقدامات سے ان دو مساجد میں کام کرنے والے ملازمین کو امیدیں بنی تھیں کہ دہوں سے خدمات کا صلہ اب انہیں ملنے والا ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ محکمہ فینانس میں کام کرنے والے عہدیداروں کو یہ گوارہ نہیں ہے کہ ان دو مساجد میں کام کرنے والے ملازمین کی خدمات کو مسلمہ حیثیت دی جائے۔