
ایکنا انٹرنیشنل ڈیسک کے مطابق سابق امریکی فوجی عہدہ کا کہنا تھا کہ یورپ میں کوئی بھی روسیوں کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا۔ ان کے پاس کوئی وجہ نہیں ہے۔ ان ممالک کی زیادہ تر مسلح افواج محض علامتی ہیں۔
انکا کہنا تھا کہ دیکھیں وہ کئی دہائیوں سے نہیں لڑے۔ اور وہ یقینی طور پر روسیوں کا دھچکا برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
روسی فوج بے اختیار دکھائی دے رہی تھی لیکن اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ 150 دنوں سے یوکرائنی افواج کے ساتھ مسلسل لڑائی اور ان کی اصل تباہی جاری ہے۔
اس لیے اس جنگ سے کوئی لینا دینا نہیں چاہتا، یورپی جنگ کے لیے تیار نہیں۔
میرے خیال میں وہ بائیڈن کے حکم پر عمل کر رہے تھے کہ پیوٹن کو استعفیٰ کے لئے مجبور کیا جائے گا اور اس سے روس میں تباہی آئے گی اور وہ اس پر یقین رکھتے تھے۔
اب ہم نے سبق سیکھا ہے۔ روس کے پاس وسائل کی بہتات ہے، شاید وسائل کے لحاظ سے امیر ترین ملک اور وہ پیچھے ہٹنے والا نہیں ہے اور پیوٹن کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔