عورت کے حوالے سے اسلامی نقطہ نگاہ

IQNA

عورت کے حوالے سے اسلامی نقطہ نگاہ

9:38 - July 25, 2022
خبر کا کوڈ: 3512363
اسلام میں عورت بارے نادرست تصویر کشی کی جاتی ہے حالانکہ اسلام میں عورت کا اہم ترین مقام ہے جو نہ صرف ایک کمزور ہستی بلکہ بعض حوالوں سے مرد سے بالاتر مقام کی حامل ہے۔

ایکنا نیوز- اسلام میں مرد و عورت ہر دو انسان ہیں اور کسی کو کسی پر برتری ہیں مگر تقوا کے باعث، کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے : «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ:

 اے لوگو ہم نے تمھیں ایک مرد و عورت سے خلق کیا ہے اور مختلف قبایل میں قرار دیا تاکہ ایک دوسرے سے انس و آشنائی ہوسکے، یقینا تم میں سے افضل وہ ہے جو پرہیز گار ہے اور خدا جاننے والا ہے‏» (حُجُرات، ۱۳).

اخلاق کی قدر، ایمان، مفید علم، عقلمندی، نیک سیرت، صبر و بردباری جیسی چیزیں تقوا میں شامل ہیں اور جو مرد و عورت میں جو ان چیزوں سے مزین ہوگا وہی افضل ہے اور اجر کا مستحق۔

 جیسے آیت 97 سوره نحل میں کہا گیا ہے: «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ: مرد و عورت میں جو شایستہ کام انجام دے گا اور مومن ہوگا ہم سے پاکیزہ زندگی بخش دیں گے اور جو اچھا کام انجام دے گا اس سے بہتر اجر دیا جائے گا» (نَحل، ۹۷).

اسلام میں مرد و عورت میں فرق کا قایل نہیں بلکہ اسلام میں کام اور طرز زندگی بارے عورت کو اختیار حاصل ہے جیسے مرد مستقل اور اپنے کام کا مالک ہے جیسے فرمایا گیا ہے: « لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا اكْتَسَبُوا وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا اكْتَسَبْنَ: مردوں نے جو فراہم کی اس میں اسکا حق ہے اور جو عورتوں نے ہاتھ لایے اسکا حصہ ہے» (نِساء/ ۳۲).

اس لیے مرد و عورت کو فطرت اور خلقت میں کوئی برتری نہیں اور معمولی فرق اس کی ماہیت کے حوالے سے کچھ کاموں میں ہے جنمیں اسکی خوشبختی اور اعمال سے متعلق ہے جیسے کہ فرمایا گیا ہے: «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ: پس دائیں یا بائیں سمت رخ موڑے بغیر اس دین (توحید) کی طرف کرلیں اور فطرت الھی کی طرف جس پر سارے انسان خلق کیے گیے ہیں اس پر ثابت قدم رہ » (روم/ 30)

نظرات بینندگان
captcha