
ایکنا نیوز- الغد نیوز کے مطابق بین الاقوامی تحقیقی علمی اعجاز قرآن مرکز نے جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کی جدید تصاویر جو ستاروں اور کہکشاوں کے حوالے سے جاری ہوئی ہیں اس ہرردعمل میں کہا ہے کہ ہر نیے علمی انکشاف سے اس یقین میں اضافہ ہوتا ہے کہ قرآن مجید خدا کا کلام ہے۔
اس مرکز کے بیان میں کہا گیا ہے کہ بغیر کسی شک کے علمی انکشافات کا یہ سلسلہ اس مقصد کی طرف ایک کڑی ہے جس میں خلقت جہاں کی حقیقت کی طرف ایک قدم ہے۔
بیان میں تاکید کی گیی ہے کہ ہر نیا انکشاف جھان ہستی کی حقیقت کی طرف حرکت ہے اور یقینا یہ سلسلہ جاری رہے گا تاہم انسان کاینات مکمل سمجھنے پر کبھی قادر نہ ہوگا اور اس حوالے سے قرآن کی آیت ۴۷ سوره ذاریات میں کہا گیا ہے: «وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ» (و ہم نے اپنی قدرت سے زمین و آسمان بپا کیا اور یقینا ہم نے [آسمان]پھیلایا
4072902

اللہ تعالی آیات ۷۵ و ۷۶ سوره واقعه میں فرماتا ہے: «فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ» ( ستاروں کے مقام کی قسم، انکے طلوع و غروب ہونے کی قسم). «وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ» اور یہ بڑی قسم ہے اگر سمجھو! )

بین الاقوامی مرکز نے مزید کہا ہے: زمین و آسمان کی خلقت شروع میں گیسیز کا ایک عظیم زخیرہ تھی اور ان میں دھماکوں سے اور اندورنی تغیرات سے یہ بتدریج الگ ہونا شروع ہویے اور خدا نے اس علمی معجزے کو مختلف مرحلوں میں بیان کیا ہے۔/
