کیا فقر و ناداری اور خدا کی رازقیت میں تضاد نہیں؟

IQNA

کیا فقر و ناداری اور خدا کی رازقیت میں تضاد نہیں؟

9:27 - July 30, 2022
خبر کا کوڈ: 3512397
انسانی معاشروں میں غربت عام دیکھی جاتی ہے جو تباہ کرکے رکھ دیتی ہے تاہم ذھن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب خدا نے رزق کا وعدہ کیا ہے تو کیا غربت و رازقیت میں تضاد نہیں؟

ایکنا نیوز- اگر رزق کا وعدہ خدا نے کیا ہے جو آیات و روایات میں موجود ہے تو کیا دنیا میں یہ بھوک و افلاس اس آیت کی نفی نہیں ؟ معروف شیعہ عالم دین اور مفسر قرآن ناصر مکارم شیرازی اس بارے میں فرماتے ہیں کہ خدا نے تمام جانداروں کے رزق کی ضمانت دی ہے لیکن رزق کو «کسب» کرنا وہ بھی «تدبیر و کوشش» کے ساتھ «انسان» کی ذمہ داری ہے اور اس میں خودخواہی اور دوسروں کے حق تلفی سے منع بھی موجود ہے، اگر کوئی بندہ سستی اور بیوقوفی سے رزق ڈھونڈنے کا موقع ضائع کرتا ہے یا کچھ دوسرے استعماری لوگ انکے حق تلفی کرکے غربت کا باعث بنتے ہیں۔

 

خدا نے انسان کے رزق مہیا کرنے کی ضمانت کے علاوہ، کچھ قوانین اور احکامات بھی بنایا ہے کہ اگر ان پر درست انداز میں عمل ہو تو دنیا میں لاکھوں لوگ بھوک و افلاس سے ہلاک نہ ہو اور غربت کا خاتمہ ہوسکے۔

 

فقر وغربت کی ایک اہم وجہ ذخیرہ اندوزی اور دوسروں کی حق تلفی ہے جو معاشرے میں عام ہوچکی ہے دوسروں پر ظلم و نا انصافی حکومتوں کے علاوہ عام لوگوں میں بھی رواج پاچکی ہیں اور منافع اندوز افراد معاشرے میں مہنگائی اور فقر کے سبب بن چکے ہیں۔

 

کوشش اور جستجو فقر و ناداری کے خاتمے میں اہم ہے خدا نے بندوں میں رزق تقسیم کیا ہے تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم گھر میں بیٹھ کر رزق طلب کریں، لہذا قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے: «وَأَن لَّیْسَ لِلاْنسَانِ إِلَّا مَا سَعَى: اور انسان کے لیے کچھ نہیں مگر جس کی وہ کوشش کریں». لہذا اگر کوئی کوشش اور جستجو کریں تو ضرورت کے مطابق رزق ضرور حاصل کرکے رہے گا.

 

اس کے علاوہ معاشرے میں فقر و ناداری کے خاتمے کے لیے خدا نے کافی تدبیروں اور احکامات کا ذکر کیا ہے جیسے خمس و زکات انہیں قوانین میں شامل ہیں۔

فرمایا گیا ہے: «إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاکِینِ وَالْعَامِلِینَ عَلَیْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِی الرِّقَابِ وَالْغَارِمِینَ وَفِی سَبِیلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِیلِ  فَرِیضَةً مِّنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ:

صدقات صرف ناداروں، بینواوں اور تقسیم کرنے والوں اور ان افراد کے لیے جنکے قلوب جذب کرنا مقصود ہو اور قیدیوں کی آزادی اور قرض داروں خدا کی راہ میں راستے میں رہ جانے والوں کے لئے مخصوص ہیں [یہ] خدا حکیم کی جانب سے فرض  ہے» (توبه/ 60).

نظرات بینندگان
captcha