
ایکنا نیوز- ڈاکٹر ود آوٹ باونڈریز ویب کے مطابق روھنگیا مسلمانوں کی زندگی درد و رنج سے بھری پڑی ہے انکو مختلف کیمپوں میں رکھا گیا ہے جہاں مشکلات بھری پڑی ہیں اور کسی طور بہتر زندگی کے وسایل موجود نہیں اور یہ لوگ ایک عشرے کے قریب یہاں پر مجبوری میں موجود ہیں۔
مذکورہ تنظیم کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایک لاکھ چالیس ہزار روھنگیا ان کیمپوں میں موجود ہیں جہاں نابسامانی کی حالت ہے اور لوگ صحت و تعلیم سے محروم ہیں، یہ لوگ جان بچانے کی وجہ سے یہاں پر پناہ گزین ہوچکے ہیں اور سمندری اور خشکی کے راستے بنگلہ دیش اور ملایشیاء کی طرف بھاگ نکلے ہیں۔
ڈاکٹروں کی اس عالمی تنظیم کی رپورٹ میں تاکید کی گیی ہے: جن مشکلات سے روھنگیا مہاجرین روبرو ہیں وہ باعث بنی ہیں کہ بہت سی نفسیاتی مشکلات پیدا پوچکی ہیں اور اکثر لوگوں کی نفسیات کو خطرے سے دوچار کرچکی ہیں۔
مذکورہ تنظیم کے بیان میں کہا گیا ہے کہ میانمار میں ان مسائل کا حل ممکن نہیں اور اس تنظیم کے تعاون سے بعض میڈیکل سہولیات فراہم کی جارہی ہیں.
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ان درپیش مشکلات میں سب مصیبت میں ہئ تاہم روھنگیا مسلم خواتین ان مشکلات اور مسائل کا زیادہ شکار ہیں.
تنظیم کی رپورٹ میں تاکید کی گیی ہے کہ روہنگیا کے لوگ ان مسائل کے خاتمے کے لیے امیدوار ہیں کہ ایک دن انکے بچوں کو تمام ضروری سہولیات میسر ہوں گی اور وہ امن و امان سے زندگی بسر کرسکیں گے۔/
4073928