
ایکنا نیوز- انسانی ساخت بہترین ساخت میں شمار کی جاتی ہے جیسے قرآن کریم میں کہا گیا ہے: «لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم: [اور ہم نے] انسان کو بہترین حالت میں خلق کیا ہے.» (تین/۴). اس مخلوق میں بے انتہا خوبی اور صلاحیت ہے جو لامحدود مقام کی خواہش رکھتا ہے۔
قرآن کے رو سے انسان میں خدائی روح پھونک دی گئی ہے اور ایسی خلقت ہے کہ خدا نے تمام مخلوقات کو اسکے تسلط میں قرار دیا ہے تاکہ وہ اس سے استفادہ اور ترقی کے لیے استعمال کرسکے۔
یہ تمام کرامت اور فضیلت اس سے بیان کی گئی ہے کہ انسان اپنے مقام اور صلاحیت سے باخبر ہوسکے اور اس سے اعلی مدارج کے لیے بہترین انداز میں استفادہ کریں۔
قرآن اس امر کے لیے عقل و خرد سے کام لینے اور اسکی پرورش کا اہم ترین نکتہ بتاتا ہے کہ اس سے وہ باسعادت زندگی کے لیے کام لے سکتا ہے۔
انسان نیچرل یا صرف فطرت کی بناء پر اس خوشبختی کی راہ کو طے نہیں کرسکتا گرچہ حیوانات غریزی طور پر مقرر راستوں کو طے کرتے ہیں تاہم قدرت غریزہ میں یہ طاقت نہیں کہ انسان کی ہدایت کا کام کریں اور انسان کو انحراف و نابودی سے بچا سکے۔
انسان اپنی نجات و خوشبختی کے لیے عقل و خرد سے کام لے کر سعادت کی طرف جاسکتا ہے اور یہی طاقت انسان و حیوان کا اہم فرق ہے اور یہ فرق انسان و حیوان کے علاوہ انسان مومن و کافر کے بیچ بھی موجود ہے جو انسان ہوتے ہوئے بھی اس سے سوچنے کا کام نہیں لیتا اور حق کی نشانیوں کو دیکھتے ہوئے حق قبول نہیں کرتا یا اس میں فکر نہیں کرتا۔
قرآن کریم ایسے بے ایمان انسان بارے یوں فرماتا ہے: «وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ إِلَّا دُعَاءً وَنِدَاءً صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ: آپ کی مثال کافروں کے لیے اس طرح ہے جو انہیں صدا دیتا ہے مگر وہ سوائے شور و غل کے کچھ نہیں سنتا (اور تمھارے بات کی حقیقت و معنی کو درک نہیں کرتا) یہ کفار (حقيقت میں) گونگام بہرا اور نابینا ہے لہذا کچھ نہیں سمجھتا!»(بقره، 171).