دین پر قائم رہتے ہوئے کام کی جگہوں پرعمدہ اخلاق اور بہترکارکردگی کی کوشش کی جائے

IQNA

دین پر قائم رہتے ہوئے کام کی جگہوں پرعمدہ اخلاق اور بہترکارکردگی کی کوشش کی جائے

20:03 - August 23, 2022
خبر کا کوڈ: 3512558
تہران، ایکنا -خلافت ہاؤس میں’کمیونٹی ٹاکنگ پلیٹ فارم‘ کے زیر اہتمام ’ورک پلیس کلچر:تنوع،شناخت اور مذہب ‘ عنوان پر مباحثہ ،مختلف شعبوں میںاہم عہدوں پر فائزافراد نے اپنے تجربات بیان کئے

انقلاب نیوز کے مطابق خلافت ہاؤس میں’کمیونٹی ٹاکنگ پلیٹ فارم‘ کے زیر اہتمام ’ورک پلیس کلچر:تنوع،شناخت اور مذہب ‘ عنوان پر مباحثہ ،مختلف شعبوں میں اہم عہدوں پر فائزافراد نے اپنے تجربات بیان کئے۔

مباحثہ کا آغاز کرتے ہوئے پروگرام کے آرگنائزر اور کمیونٹی ٹاکنگ پلیٹ فارم کے ذمہ دار غلام عارف نے کہا کہ ’’ہم ڈھائی سال بعد یہاں جمع ہوئے ہیں اس دوران کورونا وائرس پھیلنے کی وجہ سے ہم لوگ اپنا پروگرام آن لائن منعقد کرنے پر مجبور تھے ۔ جن افراد نے آن لائن پروگرام میں شرکت نہیں کی، وہ حضرات یوٹیوب پر ٹاکنگ پلیٹ فارم چینل سے استفادہ کر سکتے ہیں ۔‘‘ افتتاحی کلمات ادا کرتے ہوئے غلام عارف نے کہاکہ ’’ کام کی جگہ سے مراد ہر وہ جگہ ہے جہاں لوگ کام کرتے ہیں، چھوٹے بڑے کارخانہ، فیکٹری، سرکاری و غیر سرکاری دفاتر،شاپنگ مال،بینک ،تعلیمی ادارے اوردکان وغیرہ ان میں شامل ہیں جہاں کام کرنے کا کلچر بن جاتا ہے۔ مختلف علاقوں سے آنے والے لوگ جو الگ الگ مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں، مختلف زبانیں بولنے والے ہوتے ہیں، مل جل کر کام کرتے ہیں مگر کچھ عرصہ سے وقت کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ کام کی جگہ کا کلچر بھی تبدیل ہوتا جا رہا ہے، مسائل کے حل کیلئے الگ الگ ردعمل سامنے آتے ہیں ،مذہب کے نام پر طعنے دئیے جاتے ہیں اور مثبت و منفی باتیں ہوتی ہیں۔ انہی باتوں اور تبدیلی کو سمجھنے کیلئے ہم لوگ یہاں جمع ہوئے ہیں ۔

مشہور اردو ادیب عبدالقوی دسنوی کے گھرانے سے تعلقرکھنے والے نیوکلیئر پاور کارپوریشن آف انڈیا کے سابق ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اے ایم دسنوی ،ملٹری انجینئرنگ سروس میں بطور ٹیکنیکل آفیسر ذمہ داری ادا کرنے والے ضمیر الحسن خان ، ڈاکٹر جی ڈی پال میڈیکل کالج میں پروفیسر اور صدر شعبہ ادویات ڈاکٹر واثیقہ شیلیا ، بین الاقوامی کمپنی گولڈن سورس سوفٹ ویئر پرائیویٹ لمیٹڈ میں بطور پروڈکٹ مینجمنٹ ڈائریکٹر فرائض انجام دینے والے محمد علی شیخ مباحثہ میں شامل تھے ۔          

       مباحثہ میں حصہ لیتے ہوئے ڈاکٹر واثیقہ شیلیا نے کہا کہ ’’مجھے کام کی جگہ پر کبھی کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔ میں خود بھی ایک تعلیم یافتہ گھرانے سے تعلق رکھتی ہوں، دوسرے مذاہب کا احترام کرنا ہمیں بچپن سے سکھایا گیا ہے۔‘‘ انہوں نے مسلم معاشرے کی مروجہ مذہبی روایات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ’’ اللہ کا بھیجا ہوا دین الگ ہے اور ہمارے معاشرے میں پھیلے دینی تصورات الگ ہیں۔ ہمارے معاشرے میں مرد و زن کے معاملے میں امتیاز پایا جاتا ہے جبکہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمدؐ کا اسوۂ حسنہ ہمارے سامنے ہیں ۔پیارے نبیؐ گھر کے کاموں میں امہات المومنین کا تعاون کرتے تھے۔ آج ملازمت پیشہ خواتین بری طرح پھنس گئی ہیں۔ دفتر میں کام کے بعد گھریلو کام کاج کا بوجھ بھی اس پر پڑ گیا ہے۔ ہمارے مرد گھر کے کام نہیں کرتے ہیں ۔‘‘ ضمیر الحسن خان نے کہا کہ ’’یہ بڑا دلچسپ موضوع ہے کیونکہ ہماری یہ روزمرہ کی زندگی سے متعلق ہے ۔ میں برسوں سے انتظامی امور پر فائز ہوں۔ میں نے کچھ بھی تفریق یا تعصب والی بات محسوس نہیں کی ۔ آج ہم فاشزم کے دور میں سیاسی حالات کی وجہ سے رد عمل ظاہرکرتے ہیں جبکہ عام لوگوں کا ان سیاسی معاملات سے سروکار نہیں ہوتا اور وہ اس کے ذمہ داربھی نہیں ہوتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مسلمانوں کے برادرانِ وطن سے متعلق رویے کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ

 ’’بعض مسلمان اپنے آپ کو جنت کا حقدار سمجھتے ہیں اور دوسرے کو کافر سمجھتے ہیں جبکہ سب آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں اور ساری مخلوق اللہ کی نظر میں دنیاوی اعتبار سے یکساں ہیں۔ اسلام میں غیر مسلموں کے حقوق بھی بیان کئے گئے ہیں۔ ہماری فقہی کتب میں کثیر المشرب معاشرے میں رہنے سہنے کے آداب سے متعلق رہنمائی نہیں ہے ،اس کی کمی محسوس ہوتی ہے ۔‘‘ انہوں نے مشورہ دیا کہ ’’چونکہ ہمیں اجتماعی زندگی میں رہنے سہنے اور اپنی ترقی وبہبود کیلئے متنوع لسانی ،علاقائی ومذہبی لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے اس لئے ہمیں کثیر المشرب معاشرتی شیرازہ کو بکھرنے سے روکنے کی کوشش کرنا چاہئے اور رواداری کو بڑھاوا دینا چاہئے۔ ‘‘ انہوں نے اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’حالانکہ میں نے ہمیشہ دفتر میں اپنے ساتھیوں کے سامنے فرقہ پرستی پر تنقید کی مگر مجھےکسی قسم کی کوئی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ میرا ایک دفتری ساتھی جو آر ایس ایس سے تعلق رکھتا تھا، میرے لئے نماز کی جگہ کا انتظام کرتا تھا، میں نے کبھی گنپتی کا چندہ نہیں دیا مگر فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا تھا ۔‘‘ ایم اے دسنوی نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمیں کام کی جگہ پر مختلف ثقافتوں کے لوگوں کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہے ، ہم اپنی ثقافت کو برقرار رکھتے ہوئے دوسروں کی ثقافت کا احترام کریں۔ کام کی جگہ کھانے پینے پر کوئی پابندی نہیں لگائی جاتی ہے، ہمیں دوسروں کو مجبور نہیں کرنا چاہئے کیا کھائیں یا کیا نہ کھائیں اور نہ کوئی فلسفہ بیان کرنا چاہئے ۔‘‘ محمد علی شیخ نے بھی کہا کہ ’’میں انفارمیشن ٹکنالوجی کے میدان میں کام کرتا ہوں مگر مجھے کبھی کسی قسم کی کوئی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے ۔ ‘‘ مباحثہ میں سوالات وجوابات ہوئے اور حاضرین نے بھی اپنی آراء رکھیں جو مقررین کی گفتگو سے مطابقت رکھتی تھیں ۔سبھی نے اپنے دین و ایمان پر قائم رہتے ہوئے بہتر کارکردگی اور عمدہ اخلاق سے کام کی جگہ پر سب کا دل جیتنے کا مشورہ دیا۔/

 

نظرات بینندگان
captcha