
ایکنا نیوز- اناطولیہ ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر 2001 کو افغانستان پر ہونے والے امریکی حملے کو، جس میں لاکھوں لوگوں نے بےگھر ہوکر پاکستان میں پناہ لی تھی، 21 سال ہو گئے ہیں۔
اس حملے کے بعد بہت سے افغانی لوگوں نے اپنے پڑوسی ملکوں خصوصا پاکستان میں پناہ لی تھی اور مختلف پناہ گاہوں منجملہ بستی مہاجر کیمپ میں رہنے لگے تھے۔
یہ کیمپ 1979 میں افغانستان پر سوویت یونین کے حملے کے بعد بنایا گیا تھا۔ اور اس وقت اس میں تقریبا تیس ہزار لوگ رہائش پذیر ہیں۔
1990 کی دہائی کے آخر میں جبکہ کیمپ میں رہنے والے افغانستان پلٹنا چاہتے تھے، انھیں امریکا کے افغانستان پر حملے کے سبب رکنا پڑا اور ان کے درمیان نئے پناہ گزینوں کا اضافہ بھی ہو گیا۔
اقوام متحدہ کے اعلیٰ کمشنر برائے مہاجرین (UNHCR) کے اعداد و شمار کے مطابق 2019 کے آخر تک 14 لاکھ سے زائد افغانی مہاجرین پاکستان میں رجسٹر ہوچکے ہیں۔ دوسری طرف پاکستانی حکومت نے رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ تارکین وطن کی کل تعداد کو تقریبا تیس لاکھ بتایا ہے۔
اناطولیہ خبر رساں ایجنسی نے افغانستان پر امریکا کے حملے کے 21 سال مکمل ہونے کے موقع پر بستی کیمپ جو کہ اسلام آباد سے آدھے گھنٹے کے فاصلے پر ہے، کے کچھ پناہ گزینوں سے گفتگو کی ہے۔
پاکستان میں افغانستان کے زیادہ تر پناہ گزین گزشتہ چالیس برسوں میں متعدد پریشانیوں سے دوچار رہے ہیں اور ان کے حالات بڑے سخت رہے ہیں۔
بستی کیمپ بھی اس بات سے مستثنی نہیں رہا ہے اور ماحولیاتی مسائل سے لیکر صحت اور زندگی کی بنیادی سہولیات کی کمی سے دوچار ہے۔
خاص کر پکی سڑکیں نہ ہونے کی وجہ سے پناہ گزین لوگ بارش کے موسم میں بڑی مشکلوں سے دوچار ہوتے ہیں۔
اس کے علاوہ پانی اور سیوریج کا بنیادی ڈھانچہ بھی کیمپ میں نہیں ہے اور پانی کی ضرورتیں مسجد یا کنوؤں سے پوری کی جاتی ہیں۔
راستے بھی کوڑے کرکٹ سے بھرے پڑے ہیں اور ایسے غیر صحتمند ماحول میں بچے کھیل کود کرتے ہیں۔
4090141